26/04/2020
غزل
ذرا سا دور سے بھاؤ کہ میرا روزہ ہے
زیادہ پاس نہ آؤ کہ میرا روزہ ہے
کوئی خیال نہ آ جائے ایسا ویسا کہیں
نظر نظر سے ہٹاؤ کہ میرا روزہ ہے
مجھے نہ بھیجو اریجیت سنگھ کے گانے
کسی کی نعت سناؤ کہ میرا روزہ ہے
جو بات کرنی ہے مغرب کے بعد کر لینا
ابھی دماغ نہ کھاؤ کہ میرا روزہ ہے
بتا بتا کے ترا روزہ جا رہا ہے کلیم
ہر ایک کو نہ بتاؤ کہ میرا روزہ ہے
مرزا من موجی