27/01/2026
Latest updates on automobile import policy.
Follow my profile.
موٹر گاڑیوں کی امپورٹ: ایک خاموش ترمیم، بھاری ڈیوٹیز
Reference: Customs General Order (CGO) No. 02 of 2026
Date: 26 January 2026
Issued by: Federal Board of Revenue (FBR)
حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا Customs General Order No. 02 of 2026 بظاہر ایک تکنیکی نوعیت کی ترمیم ہے، مگر اس کے اثرات موٹر گاڑیوں کی امپورٹ پر خاصے گہرے ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس نوٹیفکیشن کے ذریعے پرانے CGO No. 14 of 2005 میں سے ایک مختصر مگر اہم فقرہ “or their authorized local agents” حذف کر دیا گیا ہے، جو امپورٹرز کے لیے ایک عملی سہولت کی حیثیت رکھتا تھا۔
ماضی میں گاڑی بنانے والی کمپنی یا اس کا authorized local agent کسٹمز کے سامنے گاڑی کی invoice، قیمت اور specifications پیش کر سکتا تھا۔ یہ مقامی ایجنٹس مارکیٹ ریٹس سے باخبر ہوتے تھے اور اکثر گاڑی کی قیمت کو بہتر انداز میں justify کر کے customs assessment کم سطح پر کروا لیتے تھے، جس کے نتیجے میں امپورٹر کو نسبتاً کم duty اور taxes ادا کرنا پڑتے تھے۔
اس نئی ترمیم کے بعد authorized local agents کو اس پورے عمل سے باہر کر دیا گیا ہے۔ اب کسٹمز صرف original manufacturer، foreign exporter یا اپنے valuation databases اور international benchmarks پر انحصار کرے گا۔ اس تبدیلی سے اسیسمنٹ کا عمل زیادہ سخت اور یک طرفہ ہو جائے گا، جبکہ امپورٹر کے لیے وضاحت یا گفت و شنید کا دائرہ محدود ہو جائے گا۔
عملی طور پر اس کا سب سے بڑا اثر گاڑی کی assessable value پر پڑے گا، جس کے بڑھنے کے امکانات نمایاں ہیں۔ چونکہ Import Duty، Sales Tax، Additional Customs Duty اور Income Tax سب اسی ویلیو کی بنیاد پر وصول کیے جاتے ہیں، اس لیے اسیس ایبل ویلیو میں اضافہ براہِ راست مجموعی ڈیوٹیز میں اضافے کا سبب بنے گا۔
خاص طور پر used اور reconditioned vehicles، مہنگے یا غیر معمولی ماڈلز، اور وہ گاڑیاں جن کی واضح مارکیٹ ویلیو دستیاب نہیں ہوتی، اس نوٹیفکیشن سے زیادہ متاثر ہوں گی۔ ایسے کیسز میں کسٹمز disputes، clearance میں تاخیر اور مالی بوجھ میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگرچہ اس نوٹیفکیشن کے ذریعے ڈیوٹیز کی rates میں کوئی براہِ راست تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم assessment mechanism کو سخت بنا کر عملی طور پر امپورٹر پر اضافی مالی دباؤ ڈال دیا گیا ہے۔ ایک بظاہر معمولی ترمیم، مگر اثرات طویل المدت اور مہنگے
ثابت ہو سکتے ہیں۔
Courtesy: Rashid Mahmood Awan (MDK)