02/05/2026
1910ء سے پہلے اور اس کے کچھ عرصہ بعد تک گاڑیوں کے ٹائر سفید رنگ کے ہوتے تھے۔
اس کے پیچھے ایک دلچسپ سائنسی اور تاریخی وجہ ہے:
ٹائر سفید کیوں ہوتے تھے؟
قدرتی ربڑ کا رنگ دراصل ہلکا سفید یا مٹیالا ہوتا ہے。 ابتدائی طور پر ٹائر بنانے کے لیے ربڑ میں زنک آکسائیڈ (Zinc Oxide) ملایا جاتا تھا تاکہ ٹائر مضبوط ہو سکیں، جس کی وجہ سے ان کا رنگ بالکل سفید ہو جاتا تھا。
سفید سے کالے رنگ میں تبدیلی (1910ء کا موڑ)
1910ء کے آس پاس ٹائر بنانے والی کمپنیوں (جیسے BFGoodrich) نے دریافت کیا کہ اگر ربڑ میں کاربن بلیک (Carbon Black) شامل کر دیا جائے تو ٹائروں کی زندگی اور کارکردگی میں حیرت انگیز اضافہ ہو جاتا ہے。
کاربن بلیک شامل کرنے کے فوائد:
مضبوطی: اس سے ٹائروں کی پائیداری 10 گنا تک بڑھ گئی。
حرارت کا اخراج: کاربن بلیک ٹائر سے حرارت کو باہر نکالنے میں مدد دیتا ہے، جس سے ٹائر چلتے وقت زیادہ گرم نہیں ہوتے。
تحفظ: یہ سورج کی شعاعوں (UV rays) سے ٹائر کو پھٹنے اور خراب ہونے سے بچاتا ہے。
"وائٹ وال" (White Wall) ٹائرز کا فیشن
جب کالے ٹائر مہنگے ہوتے تھے، تو کچھ کمپنیوں نے صرف ٹائر کے بیرونی حصے (Side walls) کو سفید رکھنا شروع کر دیا تاکہ خرچہ کم ہو。 بعد میں یہ ایک فیشن بن گیا اور 1950 اور 60 کی دہائی کی کلاسک گاڑیوں میں سفید کنارے والے ٹائر بہت مقبول ہوئے。