09/07/2025
ایک محنتی نوجوان کی سچی کہانی
جہاں حوصلہ ہو، وہاں منزل خود راستہ دے دیتی ہے
یہ کہانی ہے ایک عام سے گاؤں کے ایک خاص لڑکے کی…
یہ کہانی ہے ڈاکٹر شاہزیب ظفیر قریشی کی…
ایک ایسا نوجوان جس نے خواب تو اونچے دیکھے، مگر زمین پر چل کر، دھوپ میں پسینہ بہا کر، مشکل راستوں سے گزر کر انھیں سچ کر دکھایا۔
شاہزیب کا تعلق یونین کونسل پھگواڑی، نمب رومال سے ہے۔ وہاں کے ایک مقامی اسکول سے میٹرک کیا، پھر زندگی نے نیا موڑ لیا۔ وہ اپنے والد کے ساتھ راولپنڈی منتقل ہو گیا تاکہ تعلیم جاری رکھ سکے۔
کرائے کا مکان، اور والد محترم ایک کارپینٹر (Carpenter) — جو دن بھر محنت کرتے تاکہ بیٹے کی تعلیم کا خرچ پورا ہو سکے۔ مگر صرف والد ہی محنت نہیں کر رہے تھے… شاہزیب بھی برابر کا شریک تھا۔ وہ والد کے ساتھ کام بھی کرتا، ٹیوشن بھی پڑھاتا، اور اپنی پڑھائی بھی جاری رکھتا۔
دن رات ایک کر دیے… کبھی کتابوں کے لیے پیسے کم پڑے، کبھی فیس کی فکر، لیکن حوصلہ کبھی نہیں ٹوٹا۔ ایک طرف کام، ایک طرف تعلیم، اور درمیان میں خواب — جو کبھی دھندلے نہیں ہونے دیے۔
آخرکار وہ وقت آیا جب اس نے اپنی تعلیم کو بیرونِ ملک لے جانے کا فیصلہ کیا۔ اور آج، وہی بچہ جو پنڈی میں ٹیوشن پڑھاتا تھا، آج یونیورسٹی آف کتانیا، اٹلی سے پی ایچ ڈی مکمل کر کے ڈاکٹر شاہزیب قریشی بن چکا ہے۔
انہوں نے سسٹمز، انرجی، کمپیوٹر اور ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ میں تخصص حاصل کیا ہے — جو نہ صرف ان کے والدین بلکہ پوری یونین کونسل پھگواڑی اور قریشی برادری کے لیے باعثِ افتخار ہے۔
یہ کہانی اُن تمام نوجوانوں کے لیے سبق ہے جو کہتے ہیں "وسائل نہیں ہیں" — کیونکہ وسائل سے نہیں، حوصلے سے منزلیں ملتی ہیں۔
ڈاکٹر شاہزیب قریشی کو اس عظیم کامیابی پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد۔
آپ ہم سب کے لیے فخر بھی ہیں اور مشعلِ راہ بھی۔