26/05/2026
انا للہ وانا الیہ راجعون 😢
خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں ڈاکٹر کی مبینہ غفلت کے باعث 12 سالہ بچہ جان کی بازی ہار گیا، سوگوار خاندان نے صوبائی حکومت، ہیلتھ کیئر کمیشن اور متعلقہ اداروں سے واقعے کا نوٹس لینے اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کر دیا،بارہ سالہ متوفی ارحم عبید خان کے والد عبیداللہ خان نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کو تکلیف کے باعث پیڈز سرجن ڈاکٹر عمران کے پاس معائنہ کے لیے لے کر گئے ، جہاں معالج نے بچے کو ہرنیا کی تشخیص کرتے ہوئے فوری آپریشن تجویز کیا، دو روز قبل ڈاکٹر عمران نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پرائیویٹ طور پر بچے کا آپریشن کیا، شام 4 بجے بچے کو آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا جبکہ ساڑھے 7 بجے ڈاکٹرنے باہر آکر بتایا کہ آپریشن کر دیا گیا ہے تاہم اینستھیزیا کی زیادتی کے باعث بچے کی حالت تشویشناک ہو چکی ہے اور اسے بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم بیٹا جاں بحق ہو گیا،متوفی کے والد جو خود بھی طب ہی کے ایک شعبے سے وابستہ ہیںنے الزام عائد کیا کہ جن رشتہ داروں نے بچے کوغسل دیاان کاکہناہے کہ ارحم عبیدکاکوئی آپریشن نہیں ہواتھاجبکہ عید الاضحی کی چھٹیوں کے باعث آپریشن سے قبل ایس او پیز اور ضروری ٹیسٹوں کو نظرانداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کا معصوم بیٹا لقمہ اجل بن گیا، انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر کی ہدایت پر 24 ہزار روپے فیس، 10 ہزار کا آپریشن کا سامان، 3500 کے خون کے ٹیسٹ، 9 ہزار تین روزکا پرائیویٹ کمرے کا کرایہ اور 1000 روپے داخلہ فیس ادا کی، لیکن ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹر کی مجرمانہ غفلت نے ان کا گھر اجاڑ دیا،متاثرہ والد نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو صحت یابی کے بعد گھر لے جانے کے بجائے قبرستان چھوڑ آئے ہیں، انہوں نے صوبائی حکومت ،وزیر صحت، ہیلتھ کیئر کمیشن اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری تحقیقات، ذمہ دار ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کے حصول کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔
رپورٹ سنیئیر صحافی شہزاد درانی