RomeoSoft

RomeoSoft We Create Freeware Islamic, Educational And All Type off Java Symbian Android PC Applications.

©Official Page® █║▌│█│║▌║││ █║▌║ ▌║ Verified(facebook private limited)
www.twitter.com/RomeoSoftPK
www.ITSekho.COM

30/09/2017
پاکستان سے باہر کیا اوقات ہے ان شہزادوں اور شہزادی مریم کی ؟
24/09/2017

پاکستان سے باہر کیا اوقات ہے ان شہزادوں اور شہزادی مریم کی ؟

ن لیگ کا جاتے جاتے عوام کو پہلا رگڑا ،‎ ‎اک واری فیررر شیررررلعنت تو بنتی ہےKarzy Ley Kr Khud Kha Gye Mulak Ka Kahzna Lo...
23/09/2017

ن لیگ کا جاتے جاتے عوام کو پہلا رگڑا ،‎ ‎
اک واری فیررر شیرررر
لعنت تو بنتی ہے
Karzy Ley Kr Khud Kha Gye Mulak Ka Kahzna Loot kr Khud Kha gye or Awaam ab tex bahr bahr k Karazy Utary ge, khud wo London me Chupy Bathy Hain,Sharm Kro Asy Chorr Logon Pr Andha Dhun Emaan rkhny walo..

یہ کیا ڈرامہ بازی چل رہا ھے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ھم یہ کرپٹ لیڈر اس لیے منتخب کرتے ھے کہ وہ قوم کی بجاۓ اپنے کرپشن ...
23/09/2017

یہ کیا ڈرامہ بازی چل رہا ھے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ھم یہ کرپٹ لیڈر اس لیے منتخب کرتے ھے کہ وہ قوم کی بجاۓ اپنے کرپشن چھپانے کے لیے قانون سازی کریں ۔ آج تو ویسے بھی پاکستان میں 2 ادارے ایسے ھے جس پر سب قوم متفق ھے اور وہ نے سپریم کورٹ اور پاک فوج اب اس کے لیے بھی کرپٹ حکمران قانون سازی کررہا ھے اگر ملک کا یہ حال رہا تو پر پاکستان سے اسلامی اور جمہوریت ہٹادیں اللہ سے ڈرو خدا کے بندوں ایک دن ھم سب نے اس فانی دنیا سے خالی ہاتھ جانا ھے کیونکہ آج کل مولویوں نے بھی کرپشن کا ساتھ دیا ھے یقین کریں تو کس پی کریں ۔

گپتا خاندان سے شریف خاندان تک - ایک حیرت انگیز کہانیگپتا خاندان جنوبی افریقہ کا سب سے زیادہ اثرورسوخ رکھنے والا خاندان ہ...
23/09/2017

گپتا خاندان سے شریف خاندان تک - ایک حیرت انگیز کہانی
گپتا خاندان جنوبی افریقہ کا سب سے زیادہ اثرورسوخ رکھنے والا خاندان ہے۔ 1992 میں بھارت کے شہر سہارن پور سے جونسبرک ساؤتھ افریقہ آنے والے تین بھائیوں اتل، اجے اور راجیش نے جنوبی افریقہ میں انویسٹ منٹ کی اور اپنی محنت لگن اور ہنر سے بہت جلد اپنا مقام بنا لیا۔ یہ تین بھائی اتل گپتا، اجے گپتا اور راجیش گپتا جنوبی افریقہ میں "گپتا فیملی" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
گپتا فیملی یوں تو بےشمار قسم کے کاروبار کرتی ہے لیکن اس کے کچھ اہم کاورباروں میں کمپیوٹرز، میڈیا، معدنیات، ائرویز اور انجینرنگ کے بزنس شامل ہیں۔ یہ خاندان جنوبی افریقہ کے امیرترین اور طاقتور ترین خاندانوں میں سے ایک ہے۔ گپتا خاندان سیاسی منظرنامے پر تب پہلی بار ابھر کر سامنے آیا جب اس نے اپنی میڈیا پاور کے ذریعے صدر جیکب زوما کے خلاف اٹھنے والی تحریک کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد صدر جیکب زوما اور گپتا خاندان کی دوستی اور قربت بڑھنے لگی۔
وقت کے ساتھ ساتھ گپتا خاندان اس قدر طاقتور ہو گیا کہ اس کے متعلق ایک عام خیال یہی تھا کہ جنوبی افریقہ پر اصل حکومت گپتا خاندان ہی کرتا ہے جس کی وجہ سے اپوزیشن کی تنقید بہت زیادہ بڑھ گئی۔ کچھ ایسے معاملات بھی سامنے آئے جس کی وجہ سے گپتا فیملی کو بہت بڑا سیاسی جھٹکا لگا۔ اس میں اہم ترین سیکنڈل 2013 میں سامنے آیا جب گپتا خاندان کی طرف سے ائرفورس کی ائربیس کا غیر قانونی استعمال کیا گیا۔ اتل گپتا نے اپنے بھانجے کی شادی کے لیے بھارت سے مہمانوں کو ایک بوئنگ طیارے پر منگوایا جس کو فضائیہ کی ائربیس پر اتارا اور بغیر کسی امیگریشن پراسیس کے انہیں نکال کر حکومتی بسوں میں ڈیڑھ سو کلومیٹر دور شادی کے مقام پر پہنچایا گیا۔ اس واقعے کے بعد گپتا خاندان شدید ترین تنقید کی زد میں آ گیا .
اس واقعے کے بعد یکے بعد دیگرے سکینڈلز پر سکینڈلز کھلتے چلے گئے کہ گپتا خاندان اور جیکب زوما کی دوستی سے جنوبی افریقہ کی حکومت کیسے کیسے فوائد گپتا خاندان کو دے رہی ہے۔ گپتا خاندان نے اپنی پسند کے منسٹرز لگوائے، رشوتوں کی آفرز کی گئیں۔ اپنی من پسند کمپنیوں کو ٹھیکے دے کر کمیشن کھائے گئے، آئین اور قانون میں ایسی لچک لگائی گئی جس سے براہ راست فائدہ گپتا خاندان کے کاوربار کو ملا۔ الغرض معدنیات، ریلوے، ائرویز، میڈیا، کمپیوٹر کی مشہور کمپنی صحارا کمپیوٹرز کو میلن آف ڈالز کے فائدے پہنچائے گئے۔
حالات اس قدر بگڑ گئے کہ پورے ملک میں گپتا خاندان کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔ لیکن کہانی میں اس وقت ایک حیرت انگیز ٹوسِٹ آیا جب گپتا خاندان نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کے لیے برطانیہ کی مشہور مگر کنٹرورشل لابنگ فرم بیل پوٹنگر کو ہائر کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے گپتا خاندان کی پوزیشن بحال ہونی شروع ہو گئی۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ویب سائٹس، وکی پیڈیا پر چیزیں ان کے حق میں جانے لگیں۔ دنیا بھر میں گپتا فیملی کی عظمت پر کالمز لکھے جانے لگے، آرٹیکلز چھپنے لگے اور چند ہی دنوں میں جنوبی افریقہ میں نسلی تعصب کی بنیاد پر ہنگامے شروع ہو گئے اور اپوزیشن کی نظریں گپتا فیملی پر سے ہٹ گئیں۔ ابھی گپتا فیملی کے حالات سنبھلنے ہی شروع ہوئے تھے کہ برطانیہ کی کسی لوکل اخبار کے ہاتھ گپتا فیملی اور بیل پوٹنگر کے درمیان کی گئی ای میلز لگ گئیں اور اس کے بعد یہ سارا پول کھل گیا کہ کیسے بیل پوٹنگر ریپوٹیشن مینیجمنٹ نے جعلی اور فیک انٹرنیٹ کیمپئن چلوائی تھی، کیسے دنیا بھر میں اپنے پھیلے ہوئے ملازمین سے گپتا فیملی کے حق میں مہم چلوائی تھی اور کیسے اپنے اثرورسوخ اور سازشوں کے جال سے جنوبی افریقہ میں نسلی فسادات کروانے کی کوشش کی گئی تھی۔
یہ حقائق منظرعام پر آتے ہی پورے جنوبی افریقہ نے گپتا فیملی کا گھیراؤ کر لیا اور اپوزیشن لیڈر جولیس میلیما نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم نے یہ جمہوریت بہت مشکل سے حاصل کی ہے اس لیے اس جمہوریت کی بقاء کے لیے اب گپتا فیملی کو جنوبی افریقہ چھوڑنا ہی ہو گا اور اس کے ساتھ ہی تمام تر کارباروی شخصیات نے گپتا فیملی کا بائیکاٹ کر دیا اور گپتا فیملی کو مظاہرین کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے یہ اعلان کرنا پڑا کہ ہم رواں سال کے آخر تک اپنا سارا کاروبار امریکہ منتقل کر دیں گے جبکہ دوسری طرف اس بھیانک سکینڈل کے بعد بیل پوٹنگر ریپوٹیشن مینجمنٹ جو کہ چالیس ملین پاؤند سالانہ کمانے والی کمپنی تھی، وہ چند ہی مہینوں میں دیوالیہ ہو گئی کیونکہ جنوبی افریقہ کی ریاست اور عوام نے ایک ساتھ ہو کر اس خوفناک بیرونی فتنے کا مقابلہ کیا ۔
گپتا خاندان اور شریف خاندان میں فرق
گپتا خاندان اور شریف خاندان میں صرف اتنا فرق تھا کہ گپتا خاندان جو کہ نسلاً افریقی نہیں تھے اس لیے وہ حکومت پر اثرانداز ہو سکتے تھے لیکن حکومت کا حصہ نہیں بن سکتے تھے جب کہ شریف خاندان خود پاکستان پر حکومت کرتا ہے اور وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور بےشمار دیگر حکومتی عہدے رکھتا ہے۔
جیسے گپتا خاندان میڈیا پاور کے ذریعے اپوزیشن، عدالتوں، سیکورٹی فورسز اور دیگر مخالف قوتوں پر اثرانداز ہوئے بالکل ویسے ہی نوازشریف نے جیو / جنگ گروپ، نوائے وقت گروپ، ڈان گروپ، ایکسپریس ٹریبیون، دنیا نیوز اور بہت سارے دیگر ٹی وی، اخبارات، کالم نویس، ادیب، صحافی اور اینکر پرسنز جو لفافوں پر رکھے ہوئے ہیں جو ان کے مفادات کی نگرانی کرتے ہیں
اپنوں کو نوازنا اور حکومتی وسائل کو استعمال کر کے اپنے کاروباروں اور خاندان کو فائدہ پہنچانا بھی دونوں خاندانوں میں مشترک تھا۔
نوازشریف نے نوے کی دہائی میں منی لانڈرنگ کرنے کے لیے آئین میں پہلے سے ہی اس کے مطابق ترامیم کر لیں تا کہ ان نئے قوانین کا فائدہ حاصل کرتے ہوئے یہ آرام سے منی لانڈرنگ کر سکیں۔
بالکل ویسے ہی گپتا برادرز نے اپنے کاروبار اور پیسے کی ترسیل کو فائدہ پہنچانے کے لیے صدر جیکب زوما کے ذریعے قانون میں ترامیم کروائیں۔
جس طرح نوازشریف نے پاکستانی سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد رکھی اور چھانگا مانگا میں وزیروں کو لے جا کر بند کر دیا گیا تھا بالکل ویسے ہی گپتا خاندان نے کیبنیٹ میں شفلنگ کے دوران اپنی پسند کے لوگ اپنی من چاہی پوزیشنز پر لگوائے اور بہت سارے وزیروں اور عہدے داروں کو رشوت اورمراعات کی پیشکش کی
گپتا خاندان نے بھی اپنی جیب میں میڈیا کی پاور رکھی ہوئی تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ موجودہ دور میں اگر جھوٹ کو سچ بنانا ہے تو آپ کو میڈیا کی طاقت استعمال کرنی پڑے گی اور وہی کچھ نوازشریف پچھلے تیس سال سے کرتا آ رہا ہے۔ اس نے اپنی ہر الیکشن کیمپئن میڈیا کے ذریعے مخالفین کی کردارکشی کروا کر جیتی۔
سب سے حیرت انگیز چیز جس نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر مجبور کیا وہ یہ یہ تھا کہ نوازشریف نے اپنی ریپوٹیشن میجنجمنٹ کے لیے جس امریکی لابنگ فرم "رابرٹی گلوبل" کو ہائر کیا ہے، اس سے پہلے ایک قریبی بھارتی دوست کے کہنے پر نوازشریف نے "بیل پوٹنگر" سے رابطہ کیا تھا جس پر بیل پوٹنگر نے اپنی گرتی ساکھ کی وجہ سے مزید کسی ایڈونچر میں نہ پڑنے کا فیصلہ کیا اور نوازشریف کو "رابرٹی گلوبل" کا مشورہ دیا۔ میں نے مضمون کی پچھلی قسط میں یہ لکھا تھا کہ ایک لابنگ فرم کیسے کام کرتی ہے۔ لابنگ کرنا بنیادی طور پر ایک کرپشن ہے لیکن یہ وہ کرپشن ہے جس کو کارپوریٹ ورلڈ میں قانونی حیثیت حاصل ہے۔ ایک لابنگ فرم اپنے مقاصد کو پانے کے لیے جھوٹ بھی بولتی ہے، قتل و غارت بھی کرتی ہے، افواہیں بھی پھیلاتی ہے، نفرت اور تعصبات کو بھی ابھارتی ہے۔ جو کچھ بیل پوٹنگر نے گپتا فیملی کے لیے کیا اور جیسے اس لابنگ فرم نے سازشوں سے جنوبی افریقہ کے حالات خراب کیے بالکل ویسے ہی بہت جلد آپ نوازشریف کی لابنگ فرم رابرٹی گلوبل کو پاکستان میں "ان ایکشن" دیکھیں گے
میں نے اپنے گزشتہ ایک مضمون میں بتایا تھا کہ لابنگ فرمز ایک مافیا کی طرح کام کرتی ہیں۔ وہ حالات ہی ایسے پیدا کر دیتی ہیں جن سے ان کے کلائینٹ کو براہ راست فائدہ پہنچے۔ ایسے ہی بیل پوٹنگر نے اکنامک فریڈم فائٹرز )جنوبی افریقہ کی اپوزیشن جماعت( کی نطریں گپتا خاندان سے ہٹانے کے لیے وہاں پر نسلی فسادات شروع کروا دیے۔ اس واقعہ کے ایکسپوز ہونے کے بعد جنوبی افریقہ کی طرف سے اس قدر دباؤ بڑھا کہ بیل پوٹنگر کے تمام کلائنٹس نے اس کو چھوڑ دیا اور اب بیل پوٹنگر جو کہ اربوں ڈالر منافع کمانے والی کمپنی تھی، محض چند مہینوں کے اندر اندر دیوالیہ پن کے قریب پہنچ گئی۔ بالکل اسی پیٹرن پر نوازشریف نے "رابرٹی گلوبل" کو اپنی لابی کے لیے ہائر کیا ہے۔ بہت جلد بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کیا جائے گا اور پاکستانی فوج اور ہمارے ایٹمی ہتھیار اس کا بنیادی ٹارگٹس ہوں گے۔ پاکستان میں ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں فوج اور عدلیہ پر بین الاقوامی دباؤ اتنا بڑھ جائے کہ وہ نوازشریف کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز کریں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام بھی جنوبی افریقہ کی عوام جیسی ہوشیار، ایک نطریے پر کابند اور ملک و ملت سے مخلص ہیں یا یہ لوگ نوازشریف کی باتوں میں آ کر بین الاقوامی سازش کے آلہ کار بن جائیں گے ؟ جنوبی افریقہ کی اپوزیشن جماعتوں، عوام، سول سوسائیٹی، عدلیہ اور سیکورٹی فورسز نے یک جان ہو کر اس بیرونی فتنے کا مقابلہ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کیا پاکستانیوں میں یہ جذبہ اور طاقت ہے کہ وہ ایک ساتھ مل کر اس نوازشریف نامی فتنے کا مقابلہ کر سکیں یا نہیں ؟؟
میں برسوں کی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ نوازشریف، زرداری، الطاف حسین اور فضل الرحمان جیسے بدعنوان اور جرائم پیشہ سیاستدانوں کا سب سے بڑا ہتھیار پاکستانی عوام کی بے شعوری، بے حسی اور جہالت ہے۔
تحریر و تحقیق: عاشور بابا

جو کینسر علاج کی سہولیات سابقہ خاتون اول کڑوروں روپے دیکر لندن میں لے رہی ہے وہی علاج کا معیار شوکت خانم پاکستان میں غری...
23/09/2017

جو کینسر علاج کی سہولیات سابقہ خاتون اول کڑوروں روپے دیکر لندن میں لے رہی ہے وہی علاج کا معیار شوکت خانم پاکستان میں غریبوں کو دے رہا ہے

تبديلی آ نہيں رہی تبديلی آ گئی ھےعمران خان نے سکولوں میں قرآنی تعلیمات لازمی قرار دیاسود کے خاتمے کیلیے اسمبلی میں بل من...
23/09/2017

تبديلی آ نہيں رہی تبديلی آ گئی ھے
عمران خان نے سکولوں میں قرآنی تعلیمات لازمی قرار دیا
سود کے خاتمے کیلیے اسمبلی میں بل منظور کرلیا
ختم نبوت مضمون تعلیمی نظام میں شامل کرلیا
جہیز جیسی غیر اسلامی رواج کے خلاف اقدام اٹھایا
حضرت عمر فاروق کے دن پر پر تمام صوبے میں چھٹی کا اعلان کیا.
خیبرپختونخواہ کے سکولوں میں مطالعہ قران حکیم لازمی، سکولوں میں مطالعہ قرآن حکیم کی کتابوں کے تقسیم کا سلسلہ جاری،اب خیبرپختونخوا میں ہر گھر سے حافظ قرآن نکلے گا
خيبر پختونخواہ کی مساجد ميں صرف پڑھے لکھے حضرات کو 14 سکيل اور تنحواہ دينے کے ساتھ امام مسجد مقرر کرنے کا فيصلہ

جب کسی قوم پر نواز شریف جیسا خکمران مسلط ہوجائے,تو اس ملک کے عوام اور معاشرہ تباہ وبرباد ہوجاتا ہے,بنی اسرائیل بھی فرعون...
23/09/2017

جب کسی قوم پر نواز شریف جیسا خکمران مسلط ہوجائے,تو اس ملک کے عوام اور معاشرہ تباہ وبرباد ہوجاتا ہے,بنی اسرائیل بھی فرعون کے ساتھ خوش تھے,خالانکہ فرعون اس کے بچے ذبح کرتا تھا,اور ان کے بچیوں کے ساتھ زیادتیاں کرتا تھا,لیکن پھر بھی بنی اسرائیل اس کے ساتھ خوش تھے,کیونکہ فرعون نے اس قوم کو تعلیم علم شعور روزگار اور اس کے بنیادی خقوق سے محروم رکھا تھا,اور صرف اس قوم کو اپنے لئے سجدے اور تابعداری سکھایا تھا,اس قوم نے خضرت موسی کو نہیں مانتا تھا,اور نہ ہی اس کی کوئی بات سنتا تھا,اس لئے مئں ن لیگ کے تمام سپورٹروں اور جاہلین سے اتفاق کرتا ہوں,جیسا وہ کہہ رہےہیں,کہ ہمیں پتہ ہے,کہ نواز شریف دنیاں کا سب سے بڑا چور ہیں,لیکن ہم ووٹ اسی کو ہی دینگے,ہم یہ نہیں جانتے کہ برباد ہوتی ہیں وہ قومیں جو کسی تاجر کو ملک کی سربراہ بنایا جائے,ہم یہ بھی نہیں جانتے,کہ ملک چار سالوں میں کتنا عرب ڈالر مقروض ہوا اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ خارجہ پالیسی کیا ہوتی ہیں,اور ملک کا عزت وقار کیا ہوتا ہیں,اور یہ بھی نہیں پتہ کہ پنامہ اور کرپشن چوری کیا ہوتا ہیں,اور ہمیں سپریم کورٹ اور عدل وانصاف کے بارے میں کچھ پتہ نہیں,ہمیں صرف اتنا پتہ ہیں,کہ اگر میاں صاحب سو میں سے ستر روپے کھاتے ہیں,تو تیس ہم پر لگاتے ہیں,تو میرا نہیں حیال کہ ایسی قوم کی تقدیر بدلیں,

Address

Multan
60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when RomeoSoft posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to RomeoSoft:

Shortcuts

Share

Category