Ahmed Auto Engineering Works

Ahmed Auto Engineering Works We are Repairing Specialist in all kin of Car's Front and Rear Suspenssion parts.

Just like Power/Manual/Electronic Steering Rack Assembly,Front and Rear Shock,Front Wheel Axle's C.V.Joints etc We are repairing specialist in all kind of vehicle's front/rear suspension parts.Just like Front Wheel C.V.Joints,Shock Absorbers,Power Steering,Steering Box,Tie Rod Ends,Ball Joints,Steering Universal Crass,Thorter Body,Brake Disk and drum skimming and other

17/01/2026
03/01/2026

•••

" زورین نظامانی کی ٹربیون ایکسپریس میں لکھی گئی تحریر کے تناظر میں"

کچھ تحریریں شور مچانے کے لیے نہیں ہوتیں، وہ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ آج ایک ایسی ہی تحریر میں نے دوبارہ پڑھی۔ پہلے بھی پڑھی تھی، آج پھر پوری توجہ سے پڑھی۔ پہلی بار دل میں جو کیفیت تھی، وہ اب بھی ہے۔ افسوس بھی ہے اور ایک طرح کی خوشی بھی۔ خوشی اس بات کی کہ نوجوان سوال کر رہا ہے، آنکھیں بند کر کے سب کچھ قبول نہیں کر رہا۔ افسوس اس بات کا کہ انہی سوالات کے جواب میں وہ ایک ایسے راستے کی طرف جا رہا ہے جو بظاہر آسان، مگر انجام کے اعتبار سے خطرناک ہے۔
اس نوجوان کے سوالات غلط نہیں ہیں۔ وہ پوچھتا ہے کہ جب برابر مواقع نہیں ملتے تو حب الوطنی کیسے پیدا ہو۔ یہ سوال جائز ہے۔ واقعی، اگر ریاست اپنے شہری کو انصاف، روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولتیں نہ دے تو محض تقریروں سے محبت پیدا نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب یہ سب نہیں مل رہا تو کیا اس کا واحد جواب یہ ہے کہ ہم اس ملک سے ذہنی اور اخلاقی لاتعلقی اختیار کر لیں۔ دنیا کی تاریخ میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوا کہ قوموں نے نظام کی خرابی کا جواب قوم سے فرار کی صورت میں دیا ہو اور وہ بہتر ہو گئی ہوں۔
وہ یہ بھی کہتا ہے کہ نوجوان سب کچھ دیکھ رہے ہیں، انہیں بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ بات بھی درست ہے۔ آج کا نوجوان باشعور ہے، انٹرنیٹ نے اس کی آنکھیں کھولی ہیں۔ مگر یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔ دیکھنا اور سمجھنا دو الگ باتیں ہیں۔ انٹرنیٹ نے معلومات تو دی ہیں، مگر حکمت، تحمل اور گہرائی خود بخود نہیں آتی۔ ہر وائرل بات سچ نہیں ہوتی، اور ہر طاقتور کے خلاف بات حق نہیں بن جاتی۔ سوال یہ نہیں کہ نوجوان دیکھ رہا ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ وہ جو دیکھ رہا ہے، اس سے کیا نتیجہ اخذ کر رہا ہے۔
تحریر میں یہ بات بھی اٹھائی گئی کہ اقتدار رکھنے والے عوام میں مقبول نہیں، اسی لیے وہ سیکیورٹی کے بغیر نہیں نکل سکتے۔ یہ بھی جزوی سچ ہے۔ طاقت اور مقبولیت ایک چیز نہیں ہوتیں۔ مگر یہ کہنا کہ عوام کو کوئی پرواہ ہی نہیں، پوری حقیقت نہیں۔ اگر واقعی کسی کو پرواہ نہ ہوتی تو یہ ملک کب کا بکھر چکا ہوتا۔ یہ عام آدمی ہی ہے جو مشکلات کے باوجود نظام کو چلائے رکھتا ہے، ٹیکس دیتا ہے، قانون مانتا ہے اور ہر بحران کے بعد پھر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ خاموشی اکثر بے حسی نہیں بلکہ مجبوری اور برداشت ہوتی ہے۔
نوجوان کے سب سے بڑے سوالوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب تبدیلی ممکن نہیں تو لوگ ملک کیوں نہ چھوڑیں۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ نوجوان باہر جا رہے ہیں۔ لیکن یہاں جواب بھی اتنا ہی اہم ہے۔ قومیں اس دن مضبوط نہیں ہوتیں جب ان کے بہترین دماغ نکل جاتے ہیں۔ قومیں تب بنتی ہیں جب مشکل حالات میں بھی کچھ لوگ رک جاتے ہیں، لڑتے ہیں، نظام کو اندر سے بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہر باشعور شخص یہ کہہ دے کہ یہ ملک ناقابلِ اصلاح ہے تو پھر اصلاح کرے گا کون۔
اس تحریر میں نسلوں کے درمیان خلیج کا ذکر بھی ہے۔ یہ خلیج موجود ہے، اس سے انکار نہیں۔ نوجوان تیز انٹرنیٹ، سستے وسائل اور آزادی چاہتے ہیں، جبکہ ریاست سیکیورٹی اور کنٹرول کی بات کرتی ہے۔ مگر اس خلیج کا حل جنگ نہیں، مکالمہ ہے۔ زبان اگر شائستہ نہ رہے، اگر اختلاف گالی میں بدل جائے تو بات آگے نہیں بڑھتی، رک جاتی ہے۔
یہ کہنا بھی آسان ہے کہ بوڑھی نسل ناکام ہو چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے حکمران ناکام ہوئے، غلط پالیسیاں بنیں، انڈسٹری تباہ ہوئی، تعلیم کو سیاست نے نقصان پہنچایا۔ مگر پوری نسل کو ناکام کہنا تاریخ سے ناانصافی ہے۔ یہی وہ نسل تھی جس میں قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ تھے، علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ تھے، مولانا بھاشانی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ وہ نہ ٹین ایجر تھے، نہ جذباتی نعرہ باز۔ انہوں نے سوچا، سمجھا، حالات کو پرکھا، پھر ایک طویل جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ نوجوانوں نے ان کا ساتھ دیا، قربانیاں دیں، ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں نے ناقابلِ بیان دکھ جھیلے، تب جا کر یہ ملک وجود میں آیا۔ یہ ملک مایوسی سے نہیں، امید اور یقین سے بنا تھا۔
ابھی میں نے اسی نوجوان کی والدہ کی ایک پوسٹ بھی پڑھی جس میں انہوں نے خود لکھا کہ یہ ان کے بیٹے کا ذاتی خیال تھا، مگر کچھ لوگ اسے غلط مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر رک کر سوچنا ضروری ہے۔ نیت کچھ بھی ہو، جب کوئی تحریر منظرِ عام پر آ جاتی ہے تو وہ ہمارے اختیار میں نہیں رہتی۔ پھر اسے وہ لوگ بھی اٹھاتے ہیں جو اس ملک کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں، جو ہر منفی بات کو عالمی بیانیہ بنانے کے منتظر ہوتے ہیں۔ اس کے نتائج اکثر اچھے نہیں ہوتے، چاہے نیت کتنی ہی درست کیوں نہ ہو۔
میری یہ بات کسی نوجوان کی حوصلہ شکنی کے لیے نہیں۔ سوال کرنا ضروری ہے، بولنا ضروری ہے، خاموشی جرم ہو سکتی ہے۔ مگر سوال کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ تنقید کے ساتھ تہذیب بھی ضروری ہے۔ اصلاح کے جذبے کے بغیر صرف انکار قوموں کو آگے نہیں لے جاتا۔
میں نے زندگی میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ حالات ہمیشہ اچھے نہیں رہے، مگر ہم ڈٹے رہے۔ ہمارے اپنے خاندانوں میں، ہمارے اردگرد، اسی ملک میں نوجوان آج بھی اچھا کام کر رہے ہیں، دیانت داری سے، خاموشی سے، بغیر شور کے۔ یہی لوگ اس ملک کا اصل سرمایہ ہیں۔
ہمیں بھاگنا نہیں ہے۔ ہمیں رک کر، سنبھل کر، بہتر طریقے سے سوچنا ہے۔ اس ملک کے خلاف نہیں، اس ملک کے لیے کھڑا ہونا ہے۔ اصلاح مشکل ہے، مگر یہی واحد راستہ ہے۔ یہ ملک ہمارا ہے، اور اس کی ذمہ داری بھی ہم سب کی ہے۔
ایک خیر اندیش پاکستانی
سید محمود علی ہاشمی

•••

09/07/2025

Celebrating my 14th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

Celebrating my 14th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
09/07/2025

Celebrating my 14th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

Address

Abdul Karim Road
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00

Telephone

+923334817154

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahmed Auto Engineering Works posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ahmed Auto Engineering Works:

Share