30/08/2021
رات کے 3 بجے میں کام سے فارغ ہؤا۔مینے فیکٹری کو تالا لگایا اور اپنی گاڑی میں گھر کے لیے روانا ہوا۔میرا گھر لاہور سٹیشن سے تقریباً 2 کلومیٹر دور تھا۔۔۔اور فیکٹری سے تقریباً 5 کلومیٹر۔۔۔۔ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر گھر جاتے ہوئے میں بس یہی سوچ رہا تھا کے جلدی سے جلدیگھر پہنچوں اور جا کر ارام کیا جائے۔۔رات کے اس پہر سڑک پر عجیب وہشت تاری تھی۔۔کچھ راستا اتنا سنسان تھا کے اچھے سے اچھا انسان بھی گھبرا جائے۔۔مینے ابھی کوئی 1 کلومیٹر کا فاصلہ اس لیے تہ کیا ہو گا کہ مجھے ایک بزرگ آدمی سڑک کے کنارے کھڑا نزر آیا۔وہ مجھ سے لفٹ مانگ رہا تھا۔۔مینے اسکےپاس جا کر گاڑی کی بریک لگا دی۔۔۔ان بابا جی نے سفید لباس پہنا ہوا تھا۔۔۔لمبی اور سفید داڑھی تھی۔۔۔رنگ بھی گورا تھا مانو جیسے بوڑھے کے روپ میں کوئی جوان آدمی چھپا ہو۔ان بابا جی نے مجھ سے کہا کے بیٹا کیا تم مجھے سٹیشن پر چھوڑ دو گے ؟۔۔۔میں نے انہیں گاڑی میں بیٹھنے کا بول دیا۔۔۔وہبابا جی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے۔رات کے اس پہر مجھے لگ تو ڈر ہی رہا تھا۔اور کچھ ان بابا جی کا اتنی رات کو سڑک کے کنارے مجھ سے لفٹ مانگنا کسی ڈراؤنی فلم کی عکاسی کر رہا تھا۔لیکن میں نے پھر اپنے آپ کو حوسلہ دیا اور بابا جی سے پوچھا کے بابا جی اپ اتنی رات کو یہاں کیا کر رہے تھےبابا جی نے مجھے میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے ایک عجیب سی بات کہی۔۔۔۔۔۔انہوں نے کہا کے بیٹا تم بہت گناہ کر چکے ہو۔تم بہت گنہگار انسان ہو۔۔۔۔میں نے بڑی حیرت سے بابا جی کی طرف دیکھا اور پھر ہنسنے لگا۔۔۔۔مجھے لگا کے شاید یہ میرے ساتھ مزاق کر رہے ہیں۔۔۔۔تھوڑا اور اگے جانے بابا جی نے پھر سے مجھ سے وہی باات کہی۔۔۔۔۔
بہٹا تم سدھر جاؤ۔تم بہت گنہگار انسان ہو۔۔تم بہت گناہ کرتے ہو۔۔۔۔۔دوبارہ یہ بات سن کر مینے فورن بابا جی سے سوال کر دیا کے بابا جی آپ ہیں کون۔۔۔مجھ پے تانے کیو کس رہے ہیں۔۔۔۔۔تو انہوں نے جواب دیا کے میں ملک الموت ہوں۔۔۔۔۔ان کی یہ بات سن کر میں پھر ہنسنے لگا اور جواب دیا کے اچھا جی ؟۔۔۔ہم نے اپنا سفر جاری رکھا..
اور تقریباً 5 منٹ کی مزید ڈرائیو کے بعد مینے دیکھا کے 2 لڑکیاں سڑک کے کنارے مجھ سے لفٹ مانگ رہی تھی۔۔۔بابا جی نے مجھ سے کہا کے ان کو بھی بٹھا لو۔مینے بھی انہیں گاڑی میں بٹھا لیا۔۔۔گاڑی میں بیٹھ کر ان میں سےایک لڑکی نے مجھ سے کہا۔۔ بھائی ہمیں سٹیشن پر جانا ہے۔۔وہاں ڈراپ کر دیجئے گا۔۔مینے جواب میں کہا کے ہاں ٹھیک ہے۔ یہ بابا جی نے بھی وہیں جانا ہے۔۔ آپ کو بھی چھوڑ دوں گا۔۔ بس میرا یہی کہنا تھا اور اس کے بعد جو مجھے جواب ملا اس نے میرے پاؤں تلے زمین کھسکا دی۔۔۔لڑکی نے جواب دیا۔۔ کون بابا جی؟۔۔۔۔
میں بہت بری طرح ڈر گیا تھا۔۔۔ بابا جی کی طرف دیکھا تو وہ میری طرف ریکھ کر مسکرا رہے تھے۔۔۔ مینے ایک دم گاڑی کی بریک لگائی اور دروازا کھول کر جتنا تیز بھاگ سکتا تھا بھاگا۔۔۔ بڑی مشکل سے ہمت کر کے جو پیچھے نظر گھمائی تو ایک بار پھر سے جھٹکا لگا۔بابا جی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے تھے۔۔اور بابا جی اور تینوں لڑکیاں۔۔ باے باے کرتے میری نظروں کے سامنے سے میری گاڑی لے کر فرار ہوگئے۔۔۔۔
جن بھوت کوئی نہیں تھا۔۔۔کہانی سنانے کا مقصد تھا کے
ذرا احتیاط کر لیا کریں۔ 😂😂😂😂
#قلمکار