Auto Rikshaw sale and purchase in rawalpindi islambad

Auto Rikshaw sale and purchase in rawalpindi islambad کسی کا برتن خالی دیکھ کر یہ مت اندازہ لگایا کریں کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہو سکتا ہے وہ اپنا سب کچھ بانٹ کے ایا ہو

*والدین کے بعد بھی نیکی کا دروازہ بند نہیں ہوتا*ایک عالمِ دین سے کسی نے بڑا خوبصورت سوال کیا…کہ اگر کسی کے والدین دنیا س...
07/04/2026

*والدین کے بعد بھی نیکی کا دروازہ بند نہیں ہوتا*

ایک عالمِ دین سے کسی نے بڑا خوبصورت سوال کیا…
کہ اگر کسی کے والدین دنیا سے چلے جائیں، اور بعد میں اسے احساس ہو کہ ہم سے بڑی غلطیاں ہو گئیں، ہم نے کوتاہیاں کیں، بہت سی جگہوں پر ہم وہ نہ کر سکے جو کرنا چاہیے تھا… تو کیا اب بھی کوئی راستہ باقی ہے؟

کتنا سچا سوال ہے… کیونکہ یہ پچھتاوا بہت سے لوگوں کے دل میں ہوتا ہے۔

جواب میں انہوں نے فرمایا:
ہم تو رسولِ رحمت ﷺ کے ماننے والے ہیں… اور ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں مایوسی نہیں، امید سکھائی ہے۔

حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
اگر کسی شخص کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک انتقال کر جائے، اور وہ اپنی زندگی میں ان کا نافرمان رہا ہو… تو اب بھی وہ ان کے لیے دعا کرتا رہے، استغفار کرتا رہے… کرتا رہے، کرتا رہے…
اللہ تعالیٰ اسے نیکوکاروں میں لکھ دے گا، فرمانبرداروں میں شامل کر دے گا۔

شرط صرف یہ ہے کہ وہ سچے دل سے ان کے لیے دعا اور مغفرت مانگتا رہے۔

یعنی ابھی بھی وقت ہے…
ابھی بھی دروازہ کھلا ہے…
ابھی بھی ہم اپنے والدین کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔

ایک اور خوبصورت نصیحت بھی کی گئی:
ایک شخص نے پوچھا کہ والدین کے لیے کیا کروں؟
تو جواب ملا: “نماز شروع کر دو…”

سوچیں…
جب آپ ہر نماز میں کھڑے ہوتے ہیں، رکوع کرتے ہیں، سجدہ کرتے ہیں، اللہ کی حمد و ثناء بیان کرتے ہیں، اس کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں، درودِ پاک پڑھتے ہیں…
اور پھر آخر میں ہاتھ اٹھا کر کہتے ہیں:

“یا اللہ! مجھے بخش دے… اور میرے والدین کو بھی بخش دے…”

تو یہ صرف الفاظ نہیں ہوتے…
یہ ایک مکمل عبادت کے بعد مانگی گئی دعا ہوتی ہے، جسے اللہ تعالیٰ کس قدر محبت سے قبول فرماتا ہے۔

✨ تو آج ہی سے آغاز کریں…
اپنی نمازوں کی حفاظت کریں…
اور اپنے والدین کے لیے دعا اور استغفار کو معمول بنا لیں…

یقین رکھیں…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی سچی توبہ اور محبت کو کبھی رد نہیں کرتا۔

ااگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں
۔

─────••●◎●••─────

*بادشاہ اور اُسکی سات بیٹیاں*ایک بادشاہ کی سات بیٹیاں تھی ایک دن بادشاہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنی ساتوں بیٹیوں کو بلا کر ...
25/12/2025

*بادشاہ اور اُسکی سات بیٹیاں*

ایک بادشاہ کی سات بیٹیاں تھی ایک دن بادشاہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنی ساتوں بیٹیوں کو بلا کر پوچھتا ہے کہ میں تم سب سے ایک سوال پوچھوں گا اور اگر جواب اچھا لگا تو تمہارا من چاہا انعام بھی دوں گا ۔ سب ایک قطار میں کھڑی ہو جاو اور ایک ایک کر کے بتاو کہ تم کس کا دیا کھاتی ہو ؟ کس کا دیا پہنتی ہو ؟ سات میں سے چھ بیٹیوں نے کہا ابا حضور آپ کا دیا کھاتے ہیں اور آپ کا دیا پہنتے ہیں آپ ہی کی وجہ سے ہماری یہ شان


شوکت ہے یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور سب کو اس کی من پسند چیز دے دی۔ جب سب سے چھوٹی بیٹی کی باری آئی تو اس نے کہا کہ میں اللہ کا دیا کھاتی ہوں اور اپنی قسمت کا پہنتی ہوں اور یہ میرا نصیب ہے ۔ بادشاہ یہ سنتے ہی آگ بگولہ ہو گیا اور کہنے لگا اے کمبخت تو نے میری ناشکری کی ہے تجھے اس کی سزا ضرور ملی گئی شہزادی نے کہا جو حکم ابا حضور بادشاہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ جاو اسے جنگل میں چھوڑ آو میں بھی دیکھوں کہ یہ میرے بغیر کیسے اللہ کا دیا کھاتی ہے اور اپنے نصیب کا پہنتی ہے شہزادی سے تمام زیورات واپس لے لیے گیے اور خستہ حال کپڑوں میں بغیر کسی ساز و سامان کے بادشاہ کے حکم۔کے مطابق جنگل میں تنہا چھوڑ دیا گیا ۔لیکن شہزادی بہت پرسکون مطمئن تھی اور توکل اللہ تھی کہ جو اس نے رزق اور عیش و عشرت میرے نصیب لکھی ہے وہ مجھے ضرور ملے گئی۔

سب سپاہی شہزادی کو چھوڑ کر واپس چلے گے ۔شہزادی جنگل کو دیکھنے لگی چاروں طرف درخت ہی درخت تھے اور دوپہر سے شام ہونی والی تھی کہ شہزادی نے سوچا کیوں نہ کچھ لکڑیاں جمع کر لو تاکہ رات کو آگ جلاو پھر کوئی جنگلی جانور پاس نہیں آئے گا ۔اور رات بھی گزر جائے گی۔ شہزادی جنگل میں لکڑیاں ڈھونڈے چل پڑی ۔اس کی نظر ایک جھونپڑی پر پڑی جہاں باہر ایک بکری بندی ہوئی تھی اور اندر سے کھانسے کی آواز آ رہی تھی پہلے تو شہزادی بہت حیران ہوئی کہ اتنی ویران جگہ پر جھونپڑی ؟ جب وہ جھونپڑی کے اندر داخل ہوتی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ ایک بوڑھا ضیعف ایک چارپائی پر لیٹا ہے اور کھانستے ، کھانستے پانی ، پانی پکار کر رہا ہے شہزادی ادھر ُادھر دیکھتی ہے تو کونے میں ایک پانی کا گھڑا پڑا ہوتا ہے وہ گلاس میں پانی بھر کر بوڑھے ضعیف کو پلاتی ہے ۔

اور جھونپڑی کی صاف صفائی کرتی ہے اتنے میں بوڑھا ضعیف شہزادی سے پوچھتا ہے کہ بیٹی تم کون ہو؟ اور اتنے بڑے جنگل میں تم ا

*بچوں کو سُست بنانے میں والدین کا کردار*اسٹیوارٹ کا انتقال 103 سال کی عمر میں کیلیفورنیا میں ہوا۔ یہ اور ان کی بیگم دونو...
24/12/2025

*بچوں کو سُست بنانے میں والدین کا کردار*

اسٹیوارٹ کا انتقال 103 سال کی عمر میں کیلیفورنیا میں ہوا۔
یہ اور ان کی بیگم دونوں پچاس سال راولپنڈی میں پڑھاتے رہے۔

پروفیسر اسٹیوارٹ نے 1960میں اپنی الوداعی تقریر میں اس خطے کے بارے میں بڑی خوب صورت بات کی ‘ ان کا کہنا تھا۔

’’پاکستانی ایک ناکارہ اور مفلوج قوم ہیں‘‘
اس کا کہنا تھا ’’اس قوم کو پہلے اس کی مائیں نکما بناتی ہیں۔
یہ اپنے بچوں کا ہر کام خود کرتی ہیں۔
ان کے کپڑے دھوتی ہیں ۔ استری کرتی ہیں۔
بچوں کو جوتے پالش کر کے دیتی ہیں۔
لنچ باکس تیار کرکے بچوں کے بستوں میں رکھتی ہیں۔
اور
واپسی پر باکسز کو نکال کر دھو کر خشک بھی خود کرتی ہیں۔

بچوں کی کتابیں اور بستے بھی مائیں صاف کرتی ہیں اور ان کے بستر بھی خود لگاتی ہیں چنانچہ بچے ناکارہ اور سست ہو جاتے ہیں اور یہ پانی کے گلاس کے لیے بھی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو آواز لگادیتے ہیں یا ماں کو اونچی آواز میں کہتے ہیں امی پانی تو دے دو‘ پاکستانی بچے اس کلچر کے ساتھ جوان ہوتے ہیں‘ اس کے بعد ان کی بیویاں آ جاتی ہیں‘ یہ انھیں اپنا مجازی خدا سمجھتی ہیں اور غلاموں کی طرح ان کی خدمت کرتی ہیں‘ یہ بھی ان کا کھانا بناتی ہیں‘ کپڑے دھو کر استری کرتی ہیں۔

ان کے واش رومز صاف کرتی ہیں‘ ان کے بستر لگاتی ہیں اور پھر ان کی نفرت‘ حقارت اور غصہ برداشت کرتی ہیں چناں چہ میں اگر یہ کہوں پاکستانیوں کی مائیں بچوں کی نرسیں‘ بیویاں ملازمائیں اور چھوٹے بہن بھائی غلام ہوتے ہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا لہٰذا سوال یہ ہے جو لوگ اس ماحول میں پل بڑھ کر جوان ہوتے ہیں کیا وہ ناکارہ اور مفلوج نہیں ہوں گے؟

‘‘ پروفیسر اسٹیوارٹ کا کہنا تھا ’’اگر تم لوگوں نے واقعی قوم بننا ھے تو پھر تمہیں اپنے بچوں کو شروع سے اپنا کام خود کرنے اور دوسروں بالخصوص والدین کی مدد کی عادت ڈالنا ہو گی تاکہ یہ بچے جوانی تک پہنچ کر خود مختار بھی ہو سکیں اور ذمے دار بھی‘ تم خود فیصلہ کرو جو بچہ خود اٹھ کر پانی کا گلاس نہیں لے سکتا
وہ کل قوم کی ذمے داری کیسے اٹھائے گا“؟
*اگر آپ اس رائے سے متفق ہیں تو ریئکٹ ضرور کریں*

14/11/2025

Honda 125 koi bahi united 70 21 model k Sath exchange krna chahta ho inbox kry

03/11/2025

بریکنگ نیوز محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کا سب سے زیادہ مشہور نام ہے

03/11/2025

آدمی جب اللہ سے لینا چاہتا ہے تو لاکھوں کروڑوں کی خواہشیں رکھتا ہے، لیکن جب اللہ کے نام پر دینا ہو تو جیب میں سکے ڈھونڈنے لگتا ہے۔۔۔💔
اللہ تعالیٰ سے جڑنے کا اصل سفر وہیں سے شروع ہوتا ہے، جہاں انسان چاہت سے زیادہ قربانی کو ترجیح دیتا ہے۔۔۔💯

Address

Rawlpindi Kahuta
Kahuta
NO

Telephone

+923425176572

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Auto Rikshaw sale and purchase in rawalpindi islambad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share