07/04/2026
*والدین کے بعد بھی نیکی کا دروازہ بند نہیں ہوتا*
ایک عالمِ دین سے کسی نے بڑا خوبصورت سوال کیا…
کہ اگر کسی کے والدین دنیا سے چلے جائیں، اور بعد میں اسے احساس ہو کہ ہم سے بڑی غلطیاں ہو گئیں، ہم نے کوتاہیاں کیں، بہت سی جگہوں پر ہم وہ نہ کر سکے جو کرنا چاہیے تھا… تو کیا اب بھی کوئی راستہ باقی ہے؟
کتنا سچا سوال ہے… کیونکہ یہ پچھتاوا بہت سے لوگوں کے دل میں ہوتا ہے۔
جواب میں انہوں نے فرمایا:
ہم تو رسولِ رحمت ﷺ کے ماننے والے ہیں… اور ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں مایوسی نہیں، امید سکھائی ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
اگر کسی شخص کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک انتقال کر جائے، اور وہ اپنی زندگی میں ان کا نافرمان رہا ہو… تو اب بھی وہ ان کے لیے دعا کرتا رہے، استغفار کرتا رہے… کرتا رہے، کرتا رہے…
اللہ تعالیٰ اسے نیکوکاروں میں لکھ دے گا، فرمانبرداروں میں شامل کر دے گا۔
شرط صرف یہ ہے کہ وہ سچے دل سے ان کے لیے دعا اور مغفرت مانگتا رہے۔
یعنی ابھی بھی وقت ہے…
ابھی بھی دروازہ کھلا ہے…
ابھی بھی ہم اپنے والدین کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔
ایک اور خوبصورت نصیحت بھی کی گئی:
ایک شخص نے پوچھا کہ والدین کے لیے کیا کروں؟
تو جواب ملا: “نماز شروع کر دو…”
سوچیں…
جب آپ ہر نماز میں کھڑے ہوتے ہیں، رکوع کرتے ہیں، سجدہ کرتے ہیں، اللہ کی حمد و ثناء بیان کرتے ہیں، اس کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں، درودِ پاک پڑھتے ہیں…
اور پھر آخر میں ہاتھ اٹھا کر کہتے ہیں:
“یا اللہ! مجھے بخش دے… اور میرے والدین کو بھی بخش دے…”
تو یہ صرف الفاظ نہیں ہوتے…
یہ ایک مکمل عبادت کے بعد مانگی گئی دعا ہوتی ہے، جسے اللہ تعالیٰ کس قدر محبت سے قبول فرماتا ہے۔
✨ تو آج ہی سے آغاز کریں…
اپنی نمازوں کی حفاظت کریں…
اور اپنے والدین کے لیے دعا اور استغفار کو معمول بنا لیں…
یقین رکھیں…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی سچی توبہ اور محبت کو کبھی رد نہیں کرتا۔
ااگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں
۔
─────••●◎●••─────