09/09/2021
پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں ھوشربا ھیں۔ بڑی کمپنیوں ٹویوٹا، ھونڈا اور سوزوکی نے شاید ھر جگہ اپنے جال بچھائے ھوئے ھیں۔ جس میں سرکاری، حکومتی، ڈیلرز، اور مکینک سب ملے ھوئے ھیں۔ ٹیکسز کا مختلف شکلوں میں نفاذ بھی قیمتوں کو اوپر لیجاتا ھے۔ سب سے بڑا ظلم جو یہ کمپنیاں کرتی ھیں وہ یہ ھے کہ ان کی پاکستان مارکیٹ کیلئے بنائ جانیوالی کاریں کوالٹی اور حفاظتی معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ جو خریداروں کے لئیے بہت بڑا لائف رسک ھے۔ مزید یہ کہ جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھو جاتی ھیں جس کا فائدہ اوپر بتائے گئے سب عناصر کو ھوتا ھے۔ پاکستان دوسرے نسبتنا سستے ممالک سے گاڑیاں منگوا سکتا ھے اور ایسا ھو بھی رھا ھے لیکن حکومتی ٹیکسز کیوجہ سے اس کا فائدہ عوام کو نہیں پہنچ رھا۔ مثال کے طور پر چائنا، کوریا، تائیوان، انڈیا، فلپائن، ملائشیا اور دیگر سستے ممالک سے گاڑیاں منگوائی جا سکتی ھیں۔ لیکن حکومتی سطح پر یہ درآمدی ترجیحات میں شامل نہیں ھے۔ کچھ لوکل کمپنیاں جیسے سازگار، یونائیٹد وغیرہ سستی گاڑیاں بنا رھی ھیں جو دیکھنے اور ڈرائیو میں بھی اچھی ھیں لیکن چونکہ انہیں حکومتی سطح پر سرپرستی حاصل نہیں اس لئے ان کی عوام میں مانگ بہت کم ھے۔ اب الیکٹرک کاروں کو ھی لے لیں، ابھی تک کسی میاں منشا کو یہ توفیق نہیں ھوئ کہ ان کاروں کے لئے ھر شہر میں کم از کم ایک چارجنگ سٹیشن بنا دے۔ ان سب باتوں کی وجہ سے اور عوام میں گاڑیوں کے بارے میں آگہی نہ ھونیکی وجہ سے سستی لیکن معیاری گاڑیاں عوام خریدتے ھی نہیں کیونکہ بقول ان پڑھ مکینکس انکی ری سیل ویلیو نہیں ھوتی۔ یہ بھی ایک کہانی ھے جو بڑی کمپنیاں اپنے پالتو مکینکس اور ڈیلرز کے ذریعے پھیلاتی ھیں۔ پارٹس کی عدم فراہمی کا بہانا کر کے مکینکس جو انتہائ کم تعلیم یافتہ ھیں اور جنہیں جدید مشینری اور تکنیکی مہارت ھی حاصل نہیں ھے وہ پڑھے لکھے لوگوں کو بیوقوف بناتے ھیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ ایک تو سستے ممالک سے سستی گاڑیوں کو درآمد کرنے کو سہل بنائیں۔ دوسرا ٹیکسز کو کم کریں اور جو زیادہ گاڑیاں منگوائے اسے ٹیکس میں زیادہ رعایت دیں۔ تیسرا اس دو نمبر مکینک مافیا کو پابند کریں کہ وہ NAVTEC، اور صوبائی ٹیوٹا کے اداروں سے مکینک کورس مکمل کریں اور سرٹیفیکیٹ بھی لیں جس کو ان کی ورکشاپ میں نمایاں جگہ پر آویزاں کیا جائے۔ جو سب سے ضروری بات ھے وہ یہ کہ گاڑی کی ریپئر کے ھر پہلو کے ریٹ بنائے جائیں اور یہ ریٹ لسٹ ھر جگہ مہیا کی جائے، عوام کو پتہ ھونا چاہیئے کہ ان کی گاڑی میں ھر کام کا ریٹ حکومتی سطح پر مقرر کیا جاتا ھے۔ جس کا باقاعدہ بل گاہک کو دیا جائے تاکہ اگر کوئ زیادتی ھو تو متعلقہ افسران کو آن لائن رپورٹ کی جا سکے۔ جگہ جگہ بننے والے نام نہاد ڈیلرز کو بھی ایسی تمام شرائط کا پابند کیا جائے۔ اور ان کا زور توڑنے کیلئے ھر ضلع کی سطح پر محکمہ ایکسائز کو یہ کام سونپا جائے کہ جب بھی کوئ گاڑی خرید یا فروخت ھو تو اس گاڑی کیلئے محکمہ ایک کار کنڈیشن سرٹیفیکیٹ جاری کرے تاکہ یہ ڈیلر مافیا عوام کو لوٹ نہ سکے۔ تمام بڑے آن لائن گاڑیوں کے بزنس کرنیوالے اپنی کاروباری سائٹس پر کسی گاڑی کو اپلوڈ نہ کریں جب تک محکمہ اس گاڑی کی حالت اور قیمت کا تعین نہیں کر دیتا۔ سب ان سب لوٹرز مافیاز کو ٹیکس کے دائرہ میں بھی لایا جائے۔ Imran Khan Usman Buzdar Chief Secretary Punjab