Saad Honda centre doltala

Saad Honda centre doltala All bike parts available in wholesale rate.

27/07/2024
27/07/2024
27/07/2024
14/04/2024

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ(1)وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ(2)وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ(3)وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ(4)وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ(5)وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ(6)وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ(7)وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْ(8)بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ(9)وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ(10)وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ(11)وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ(12)وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ(13)عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْﭤ(14)

ترجمۂ کنز الایمان

جب دھوپ لپیٹی جائے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب پہاڑ چلائے جائیں اور جب تھلکی اونٹنیاں چھوٹی پھریں اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں اور جب سمندر سلگائے جائیں اور جب جانوں کے جوڑ بنیں اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے کس خطا پر ماری گئی اور جب نامۂ اعمال کھولے جائیں اور جب آسمان جگہ سے کھینچ لیا جائے اور جب جہنم کوبھڑکایا جائے اور جب جنت پاس لائی جائے ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی۔

تفسیر صراط الجنان

{اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ: جب سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔} اس سورت کی ابتدائی 14آیات میں 12چیزوں کو ذکر کیا گیا ہے۔

(1)…جب سورج کے نور کوزائل کر دیا جائے گا ۔

(2)… جب ستارے جھڑکر بارش کی طرح آسمان سے زمین پر گر پڑیں گے اور کوئی ستارہ اپنی جگہ پر باقی نہ رہے گا۔

(3)… جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور غبار کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔

(4)… جب وہ اونٹنیاں جن کے حمل کو دس مہینے گذر چکے ہوں گے اور ان کا دودھ نکالنے کا وقت قریب آگیا ہو گا، آزاد پھریں گی کہ ان کو نہ کوئی چرانے والا ہو گا اورنہ ان کا کوئی نگراں ہو گا ، اس دن کی دہشت اور ہَولْناکی کا یہ عالَم ہو گا اور لوگ اپنے حال میں ایسے مبتلا ہوں گے کہ ان اونٹنیوں کی پرواہ کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔

(5)… جب قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے کے بعد وحشی جانور جمع کیے جائیں گے تاکہ وہ ایک دوسرے سے بدلہ لیں ، پھر خاک کردیئے جائیں ۔

(6)… جب سمندر سلگائے جائیں گے،پھر وہ خاک ہو جائیں گے ۔

(7)… جب جانوں کے جوڑ بنیں گے۔ مفسرین نے اس کے مختلف معنی بیان کئے ہیں (1) نیک لوگ نیکوں کے ساتھ اور برے لوگ بروں کے ساتھ کر دئیے جائیں گے۔ ــــ(2)جانیں اپنے جسموں کے ساتھ یا اپنے عملوں کے ساتھ ملادی جائیں گی۔(3) ایمانداروں کی جانیں حوروں کے ساتھ اور کافروں کی جانیں شَیاطِین کے ساتھ ملادی جائیں گی۔(4) روحیں اپنے جسموں کی طرف لوٹا دی جائیں گی۔

(8)… جب اس لڑکی سے پوچھا جائے گا جو زندہ دفن کی گئی ہو کہ کس خطا کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا؟۔اہلِ عرب کا دستور تھا کہ زمانۂ جاہلیّت میں وہ لڑکیوں کو زمین میں زندہ دفن کردیتے تھے اور یہ سوال قاتل کی سرزنش کے لئے ہوگا تاکہ و ہ لڑکی جواب دے کہ میں بے گناہ ماری گئی تھی۔

(9)… جب نامۂ اعمال حساب کے لئے کھولے جائیں گے۔

(10)…جب آسمان اپنی جگہ سے ایسے کھینچ لیا جائے گا جیسے ذبح کی ہوئی بکری کے جسم سے کھال کھینچ لی جاتی ہے۔

(11)… جب جہنم کو اللّٰہ تعالیٰ کے دشمنوں کے لئے بھڑکایا جائے گا۔

(12)… اور جب جنت کو اللّٰہ تعالیٰ کے پیاروں کے قریب لایا جائے گا۔اس کے بعد فرمایا کہ جب یہ 12چیزیں واقع ہوں گی تو اس وقت ہر جان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کون سی نیکی یا بدی اپنے ساتھ لے کر حاضر ہوئی ہے۔( خازن ، التکویر ، تحت الآیۃ : ۱-۱۴ ، ۴ / ۳۵۵- ۳۵۶، مدارک، تحت الآیۃ: ۱-۱۴، ص۱۳۲۴-۱۳۲۵، جلالین مع صاوی، التکویر، تحت الآیۃ: ۱-۱۴، ۶ / ۲۳۱۹-۲۳۲۱، ملتقطاً)

{وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْ: اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائیگا۔} حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نام لے کر فرمایا’’ایک صاحب تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، میں نے زمانۂ جاہلیّت میں اپنی آٹھ بیٹیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیا تھا (اب میرے لئے کیا حکم ہے) نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم ہر بیٹی کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دو۔اس شخص نے دوبارہ عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، (میرے پاس غلام نہیں ہیں البتہ) میں اونٹوں کا مالک ہوں ۔ارشاد فرمایا:’’اگر تم چاہو تو ہر بیٹی کے بدلے ایک اونٹ ہدیہ کر دو۔( معجم الکبیر، باب القاف، من اسمہ: قیس، قیس بن عاصم المنقری، ۱۸ / ۳۳۷، الحدیث: ۸۶۳)

بیٹیو ں سے متعلق دین ِاسلام کا عظیم کارنامہ:

یہ دین ِاسلام کا ہی عظیم کارنامہ ہے جس نے بیٹیوں کو اپنے لئے بدنامی کا باعث سمجھ کرزمین میں زندہ دفن کر دینے والے لوگوں کو اس انسانیّت کُش ظلم کا احساس دلا یا اوران لوگوں کی نظروں میں بیٹی کی عزت اور وقار قائم کیا اور بیٹیوں کے فضائل بیان کر کے معاشرے میں برسوں سے جاری اس دردناک عمل کا خاتمہ کر دیا ، اس سے معلوم ہو اکہ اسلا م عورتوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ انہیں ہر طرح کے ظلم سے بچاتا ہے، چاہے وہ ظلم ان کی ناحق زندگی ختم کر کے کیا جائے یا ان کی عزت و ناموس اور ان کے جسم کے ساتھ کھیل کر یا ان کے جسم کی نمائش کروا کر کیا جائے۔اس سے ان لوگوں کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہئے جوعورت کے بارے دین ِاسلام کے اَحکامات کو اس کے اوپر ظلم قرار دیتے ہیں ، چادر و چار دیواری کو عورت کے حق میں ناانصافی کہتے ہیں اورروشن خیالی اور نام نہادتہذیب و تَمَدُّن کے نام پر عورت کوشرم و حیا سے عاری کرنے میں اسلام کی شان سمجھتے ہیں ۔

{وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ: اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی۔} اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن جہنم کی بھڑک میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ وہ کفار کو ہمیشہ کے لئے جلاتی رہے ورنہ جہنم تو جب سے پیدا کی گئی ہے تب سے ہی بھڑک رہی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جہنم کی آگ ایک ہزار سال بھڑکائی گئی یہاں تک کہ وہ سرخ ہو گئی،پھر ایک ہزار سال بھڑکائی گئی یہاں تک کہ وہ سفید ہو گئی،پھر ایک ہزار سال بھڑکائی گئی یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو گئی،اب وہ ا نتہائی سیاہ ہے۔( ترمذی، کتاب صفۃ جہنم، ۸-باب منہ، ۴ / ۲۶۶، الحدیث: ۲۶۰۰)

{عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْ: ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی۔} جب لوگوں کو اپنے کئے ہوئے اچھے برے اعمال معلوم ہوں گے تو اس وقت ان کا جو حال ہو گا اس کے بارے میں ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا ﳝ- وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍۚۛ-تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًاؕ-وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗؕ-وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ‘‘(ال عمران:۳۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (یاد کرو)جس دن ہر شخص اپنے تمام اچھے اور برے اعمال اپنے سامنے موجود پائے گا توتمنا کرے گاکہ کاش اس کے درمیان اور اس کے اعمال کے درمیان کوئی دور دراز کی مسافت (حائل) ہوجائے اور اللّٰہ تمہیں اپنےعذاب سے ڈراتا ہے اور اللّٰہ بندوں پر بڑامہربان ہے۔

ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان آیات میں زیادہ سے زیادہ غور کرے تاکہ ا س کے دل میں اللّٰہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اوراسے گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی سوچ نصیب ہو۔

24/03/2024

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِۚۛ-وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُۚۛ-اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(188)

ترجمۂ کنز الایمان

تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی میں تو یہی ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔

تفسیر صراط الجنان

{قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ:تم فرماؤ، میں اپنی جان کے نفع اور نقصان کا اتنا ہی مالک ہوں جتنا اللہ چاہے ۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس آیت میں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کمال درجے کی عاجزی، عظمت ِ الہٰی اور عقیدہ ِ توحید کے اظہار کا حکم فرمایا گیا کہ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس جو قدرت و اختیار اور علم ہے خواہ اپنی ذات کے متعلق یا دوسروں کے بارے میں ، یونہی دنیاوی چیزوں کے بارے میں یا قیامت، آخرت اور جنت کے بارے میں وہ تمام کا تمام اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے ہے لہٰذا حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اَوّلِین و آخرین سے افضل ہونا، دنیا و آخرت کے اُمور میں تَصَرُّف فرمانا، صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو شفا عطا فرمانا بلکہ جنت عطا فرمانا، انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کرنا وغیرہا جتنی چیزیں ہیں سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے چاہنے سے ہیں۔

{وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ:اور اگر میں غیب جان لیا کرتا۔} اس آیتِ مبارکہ میں علمِ غیب کی نفی کی علماء ِکرام نے مختلف تَوجیہات بیان کی ہیں ، ان میں سے چار توجیہات درج ذیل ہیں جنہیں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علوم کے بیان پر مشتمل اپنی لاجواب کتاب’’اِنْبَاءُ الْحَیْ اَنَّ کَلَامَہُ الْمَصُوْنَ تِبْیَانٌ لِّکُلِّ شَیْءٍ‘‘(اللہ تعالیٰ کا کلام قرآنِ مجید ہر چیز کا روشن بیان ہے) میں بیان فرمایا ہے۔

(1)…اس آیت میں علمِ عطائی کی نفی نہیں بلکہ علمِ ذاتی کی نفی ہے ۔

امام قاضی عیاض رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شفا شریف میں فرماتے ہیں ’’نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے معجزات میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو غُیوب پر مُطّلع فرمایا اور آئندہ ہونے والے واقعات سے با خبر کیا۔ اس باب میں احادیث کا وہ بحرِ ذَخّار ہے کہ کوئی اس کی گہرائی جان ہی نہیں سکتا اور نہ ا س کا پانی ختم ہوتا ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے معجزات میں سے یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو یقین اور وُثوق سے معلوم ہے اور ہم تک ا س کی خبریں مُتواتِر طریقے سے کثرت سے پہنچی ہیں اور غیب پر اطلاع ہونے پر اِن احادیث کے معانی و مطالب آپس میں متحد ہیں۔ (شفاء شریف، فصل ومن ذلک ما اطلع علیہ من الغیوب وما یکون، ص۳۳۵-۳۳۶، الجزء الاول)

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’یہ وضاحت ا ن قرآنی آیات کے منافی نہیں جن میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی غیب نہیں جانتا اور اس آیتِ کریمہ’’وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ‘‘ میں کسی واسطے کے بغیر (یعنی علمِ ذاتی) کی نفی کی گئی ہے البتہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا غیب پر مطلع ہونا ثابت ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔

’’عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘ (جن۲۶، ۲۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو مکمل اطلاع نہیں دیتا۔سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ (نسیم الریاض، القسم الاول فی تعظیم العلی الاعظم۔۔۔ الخ، فصل فیما اطلع علیہ من الغیوب وما یکون، ۴ / ۱۴۹)

(2)…یہ کلام ادب و تواضع کے طور پر ہے۔

علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت میں اس بات کا احتمال ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ کلام تواضع اور ادب کے طور پر فرمایا ہو اور مطلب یہ ہے کہ میں غیب نہیں جانتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جس کی مجھے اطلاع دی اور جو میرے لئے مقرر فرمایا میں صرف اسی کو جانتا ہوں۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۸، ۲ / ۱۶۷)

(3)…اس آیت میں فی الحال غیب جاننے کی نفی ہے مستقبل میں نہ جاننے پر دلیل نہیں ہے۔

علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے غیب پر مطلع ہونے سے پہلے یہ کلام فرمایا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو علمِ غیب کی اطلاع دی تو حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کی خبر دی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘(جن:۲۶، ۲۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو مکمل اطلاع نہیں دیتا۔سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۸، ۲ / ۱۶۷)

(4)…یہ کلام کفار کے سوال کے جواب میں صادر ہوا۔

علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ کلام کفار کے سوال کے جواب میں صادر ہوا، پھر ا س کے بعد اللہ تعالیٰ نے غیبی اَشیاء کو حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ظاہر کیا اور حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کی خبر دی تاکہ یہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا معجزہ اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت صحیح ہونے پر دلیل بن جائے۔( خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۸، ۲ / ۱۶۷)

{لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ:تومیں بہت سی بھلائی جمع کرلیتا۔} اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت ،امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’بھلائی جمع کرنا اور برائی نہ پہنچنا اسی کے اختیار میں ہوسکتا ہے جو ذاتی قدرت رکھے اور ذاتی قدرت وہی رکھے گا جس کا علم بھی ذاتی ہوکیونکہ جس کی ایک صفت ذاتی ہے اس کے تمام صفات ذاتی ،تو معنی یہ ہوئے کہ اگر مجھے غیب کا علم ذاتی ہوتا تو قدرت بھی ذاتی ہوتی اور میں بھلائی جمع کرلیتا اور برائی نہ پہنچنے دیتا ۔بھلائی سے مراد راحتیں اور کامیابیاں اور دشمنوں پر غلبہ ہے اور برائیوں سے تنگی و تکلیف اور دشمنوں کا غالب آنا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بھلائی سے مراد سرکشوں کا مطیع اور نافرمانوں کا فرمانبردار اور کافروں کا مومن کرلینا ہو اور برائی سے بدبخت لوگوں کا باوجود دعوت کے محروم رہ جانا تو حاصلِ کلام یہ ہوگا کہ اگر میں نفع و ضَرر کا ذاتی اختیار رکھتا تو اے منافقین وکافرین ! تمہیں سب کو مومن کر ڈالتا اور تمہاری کفری حالت دیکھنے کی تکلیف مجھے نہ پہنچتی۔(خزائن العرفان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۸، ص۳۳۰)

31/01/2024
24/01/2024

Address

Gujar Khan

Telephone

+923488281703

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saad Honda centre doltala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Saad Honda centre doltala:

Share