25/07/2026
…
آپ کے ہونے، نہ ہونے—دونوں پر مٹی ڈال دی۔
ہم کسی شخص سے نہیں تھکتے، ہم اُس انتظار سے تھک جاتے ہیں جو ہر صبح ایک نئی امید کے ساتھ جاگتا ہے، اور ہر رات خاموشی سے دم توڑ دیتا ہے۔
اذیت کے دن جب انسان تنہا گزارتا ہے تو وہ صرف وقت نہیں کاٹتا، وہ خود بھی بدل جاتا ہے۔
یہ درد چیخوں سے نہیں مارتا، بلکہ خاموشی سے انسان کی سوچ، اس کی ترجیحات اور اس کے اندر بسنے والی دنیا کو بدل دیتا ہے۔
پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب شعور، جذبات پر غالب آ جاتا ہے۔
نہ انتظار باقی رہتا ہے،
نہ شکوہ،
نہ کسی وضاحت کی طلب،
اور نہ ہی واپسی کی کوئی امید۔
بس ایک گہرا سکون رہ جاتا ہے، جیسے دل نے خاموشی سے یہ مان لیا ہو کہ ہر تعلق کو اس کی آخری منزل تک پہنچانا ضروری نہیں ہوتا۔
اب اگر آپ پوچھنے آئے ہیں کہ کیا ہوا تھا…
دل، میری جان… بہت پہلے مر چکا۔
یہ نفرت نہیں،
یہ بےحسی بھی نہیں۔
یہ بار بار ٹوٹنے، بکھرنے اور خود کو سمیٹنے کے بعد حاصل ہونے والا وہ سکون ہے، جہاں انسان کسی کو اپنی زندگی سے نہیں نکالتا، بلکہ خود کو اُس کے اثر سے آزاد کر لیتا ہے۔
اور شاید زندگی کا سب سے کٹھن مرحلہ بھی یہی ہوتا ہے…
جب انسان محبت کو نہیں، بلکہ اُس سے وابستہ ہر امید، ہر انتظار اور ہر خواب کو خاموشی سے دفن کر دیتا ہے۔
کیونکہ بعض فیصلے محبت ختم ہونے کے بعد نہیں کیے جاتے…
بلکہ خود کو بچانے، اپنی عزتِ نفس کو سنبھالنے اور اپنی روح کو مزید ٹوٹنے سے محفوظ رکھنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
کچھ رشتے ختم نہیں ہوتے…
بس دل اُن سے آزاد ہو جاتا ہے