10/06/2026
یہ واقعہ جاپان کے شہر Toyama میں پیش آیا تھا، اور اس میں ایک لڑکی (غیر ملکی خاتون) کو جعلی پولیس والوں نے دھوکہ دے کر تقریباً 40 لاکھ ین (4 million yen) کا اسکیم کیا۔ تفصیلات یہ ہیں:
14 جنوری کو کیا ہوا؟
14 جنوری کو اس خاتون کو فون آیا، جس میں خود کو پولیس افسر ظاہر کرنے والے لوگوں نے کہا کہ آپ پر چین میں فراڈ میں ملوث ہونے کا شک ہے۔ پھر اسے ڈرایا گیا کہ اگر وہ رقم ادا کرے تو اسے “ملزم” کے بجائے “متاثرہ فریق” سمجھا جائے گا۔ خوف اور دباؤ کی وجہ سے خاتون نے ان کے بتائے گئے اکاؤنٹ میں 40 لاکھ ین منتقل کر دیے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سب جعلی پولیس (fake police) کا منظم فراڈ تھا۔
جاپان میں ایسے “نقلی پولیس اسکیم” (Fake Police Scam) کے کیسز حالیہ برسوں میں کافی بڑھے ہیں، جہاں مجرم پولیس، پراسیکیوٹر یا سرکاری افسر بن کر لوگوں کو ڈراتے ہیں کہ آپ کسی جرم میں ملوث ہیں، پھر پیسے منتقل کرواتے ہیں۔ جاپانی پولیس نے خود عوام کو خبردار کیا ہے کہ اصل پولیس کبھی فون پر پیسے نہیں مانگتی اور نہ ہی تحقیقات کے نام پر رقم ٹرانسفر کرواتی ہے۔
ایک اہم بات:
جرائم ہر ملک میں ہوتے ہیں۔ Japan ایک ترقی یافتہ اور نسبتاً محفوظ ملک ضرور ہے، لیکن وہاں بھی فراڈ، قتل، چوری، اسکیم، اور دیگر جرائم ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بعض ممالک میں قانون نافذ کرنے کا نظام زیادہ مضبوط ہوتا ہے، اس لیے جرم کم یا جلد سامنے آ جاتا ہے۔ یہ کہنا کہ “جاپان میں فرشتے رہتے ہیں” حقیقت پسندانہ بات نہیں؛ وہاں بھی انسان ہی رہتے ہیں، اور جہاں انسان ہیں وہاں اچھے اور برے دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ البتہ مجموعی طور پر بعض جرائم کی شرح کئی ممالک سے کم ہو سکتی ہے۔