niazi_qasim

niazi_qasim ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ

25/05/2022
 .is.Lightبراہ کرم شئیر اور فالو کریں۔ جزاک اللہ یہ تم  نہیں تمھارا خون بولتا ہے۔خلیفہ ہشام بن عبدالملک بن مروان بیت الل...
07/03/2022

.is.Light
براہ کرم شئیر اور فالو کریں۔ جزاک اللہ
یہ تم نہیں تمھارا خون بولتا ہے۔

خلیفہ ہشام بن عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی- جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا- مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا- خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے پوچھا، یہ نوجوان کون ہے۔ تو اسے بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ہے۔
خلیفہ کو دھچکا لگا۔ اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجا-
خلیفہ نے پوچھا کہ بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا مداح ہوں۔ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آ سکوں۔ تم اپنی ضرورت بیان کرو۔ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا-
نوجوان نےجواب دیا، اے امیر المومنین! میں اس وقت اللہ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ہوں اور مجھے شرم آتی ہے کہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر کسی اور سے کچھ مانگوں۔
خلیفہ نے اس کے پُرمتانت چہرے پر نظر دوڑائی اور خاموش ہو گیا۔
خلیفہ نے اپنے غلام سے کہا- کہ یہ نوجوان جیسے ہی عبادت سے فارغ ہو کر بیتُ اللّٰہ سے باہر آئے، اسے میرے پاس لے کر آنا-
سالم بن عبداللہؓ بن عمرؓ جیسے ہی فارغ ہو کر حرمِ کعبہ سے باہر نکلے تو غلام نے اُن سے کہا کہ امیر المؤمنین نے آپکو یاد کیا ہے۔
سالم بن عبداللہؓ خلیفہ کے پاس پہنچے۔
خلیفہ نےکہا،
نوجوان! اب تو تم بیتُ اللّٰہ میں نہیں ہو، اب اپنی حاجت بیان کرو۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری کچھ مدد کروں۔
سالم بن عبداللہؓ نےکہا،
اے امیرالمؤمنین! آپ میری کونسی ضرورت پوری کر سکتے ہیں، دنیاوی یا آخرت کی؟
امیرالمؤمنین نےجواب دیا،
کہ میری دسترس میں تو دنیاوی مال و متاع ہی ہے۔ سالم بن عبداللہؓ نے جواب دیا- امیر المؤمنین! دنیا تو میں نے کبھی اللّٰہ سے بھی نہیں مانگی۔ جو اس دنیا کا مالکِ کُل ہے۔ آپ سے کیا مانگوں گا۔ میری ضرورت اور پریشانی تو صرف آخرت کے حوالے سے ہے۔ اگر اس سلسلے میں آپ میری کچھ مدد کر سکتے ہیں تو میں بیان کرتا ہوں۔
خلیفہ حیران و ششدر ہو کر رہ گیا-
اور کہنے لگا- کہ نوجوان یہ تُو نہیں، تیرا خون بول رہا ہے۔
خلیفہ کو حیران اور ششدر چھوڑ کر سالم بن عبداللہؓ علیہ رحمہ وہاں سے نکلے اور حرم سے ملحقہ گلی میں داخل ہوئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
یوں ایک نوجوان حاکمِ وقت کو آخرت کی تیاری کا بہت اچھا سبق دے گیا۔

ایک حاجی صاحب کا واقعہ ہے وہ کافی بیمار تھے۔کئی سالوں سے ہر ہفتے پیٹ سے چار بوتل پانی نکلواتے تھےاب ان کے گردے واش ہوتے ...
17/02/2022

ایک حاجی صاحب کا واقعہ ہے وہ کافی بیمار تھے۔
کئی سالوں سے ہر ہفتے پیٹ سے چار بوتل پانی نکلواتے تھے
اب ان کے گردے واش ہوتے ہوتے ختم ہوچکے تھے۔
ایک وقت میں آدھا سلائس ان کی غذا تھی۔ سانس لینے میں بہت دشواری کا سامنا تھا۔
نقاہت اتنی کہ بغیر سہارے کے حاجت کیلئے نہ جاسکتے تھے۔
ایک دن چوہدری صاحب ان کے ہاں تشریف لے گئے
اور انہیں سہارے کے بغیر چلتے دیکھا تو بہت حیران ہوئے انہوں نے دور سے ہاتھ ہلا کر چوہدری صاحب کا استقبال کیا‘
چہل قدمی کرتے کرتے حاجی صاحب نے دس چکر لان میں لگائے‘
پھر مسکرا کر ان کے سامنے بیٹھ گئے‘
ان کی گردن میں صحت مند لوگوں جیسا تناؤ تھا۔
چوہدری صاحب نے ان سے پوچھا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا؟
کوئی دوا‘ کوئی دعا‘ کوئی پیتھی‘ کوئی تھراپی۔ آخر یہ کمال کس نے دکھایا۔
حاجی صاحب نے
فرمایا میرے ہاتھ میں ایک ایسا نسخہ آیا ہے کہ اگر دنیا کو معلوم ہوجائے تو سارے ڈاکٹر‘ حکیم بیروزگار ہوجائیں۔
سارے ہسپتال بند ہوجائیں اور سارے میڈیکل سٹوروں پر تالے پڑجائیں۔
چوہدری صاحب مزید حیران ہوئے کہ آخر ایسا کونسا نسخہ ہے جو ان کے ہاتھ آیا ہے۔
حاجی صاحب نے فرمایا کہ میرے ملازم کی والدہ فوت ہوگئی‘
میرے بیٹوں نے عارضی طورپر ایک چھ سات سالہ بچہ میری خدمت کیلئے دیا‘
میں نے ایک دن بچے سے پوچھا کہ آخر کس مجبوری کی بنا پر تمہیں اس عمر میں میری خدمت کرنا پڑی‘بچہ پہلے تو خاموش رہا پھر سسکیاں بھر کر بولا کہ ایک دن میں گھر سے باہر تھا‘میری امی‘ ابو‘ بھائی‘ بہن سب سیلاب میں بہہ گئے
میرے مال مویشی ڈھور ڈنگر‘ زمین پر رشتہ داروں نے قبضہ کرلیا۔
اب دنیا میں میرا کوئی نہیں۔
اب دو وقت کی روٹی اور کپڑوں کے عوض آپ کی خدمت پر مامور ہوں۔
یہ سنتے ہی حاجی صاحب کا دل پسیج گیا اور پوچھا بیٹا کیا تم پڑھوگے بچے نے ہاں میں سرہلا دیا۔
حاجی صاحب نے منیجر سے کہا کہ اس بچے کو شہر کے سب سے اچھے
سکول میں داخل کراؤ۔
بچے کا داخل ہونا تھا کہ اس کی دعاؤں نے اثر کیا‘
قدرت مہربان ہوگئی‘
میں نے تین سالوں کے بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا‘
سارے ڈاکٹر اور گھروالے حیران تھے۔
اگلے روز اس یتیم بچے کو ہاسٹل میں داخلہ
دلوایا اور بغیر سہارے کے ٹائلٹ تک چل کرگیا‘ میں نے منیجر سے کہا کہ شہر سے پانچ ایسے اور بچے ڈھونڈ کرلاؤ جن کا دنیا میں کوئی نہ ہو۔
پھر ایسے بچے لائے گئے
انہیں بھی اسی سکول میں داخل کرادیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور آج میں بغیر سہارے کے چل رہا ہوں۔
سیر ہوکر کھاپی رہا ہوں اور قہقہے لگارہا ہوں۔ حاجی صاحب سینہ پھلا کر گلاب کی کیاریوں کی طرف چل دئیے
اور فرمایا میں اب نہیں گروں گا جب تک کہ یہ بچے اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہوجاتے۔
حاجی صاحب گلاب کی کیاریوں کے قریب رک
گئے اور ایک عجیب فقرہ زبان پر لائے :-
’’قدرت‘ یتیموں کو سائے دینے والےدرختوں کے سائے لمبے کردیا کرتی ہے.

06/02/2022

جنگ میں جانے سے پہلے بادشاہ نے اپنی خوبصورت بیوی کو کمرے میں بند کر کے تالا لگا دیا
اور چابی اپنے عزیز دوست کے حوالے کرتے ہوئے کہا: اگر چار دن تک میں نا لوٹا تو تالا کھول لینا وہ تمہاری..

بادشاہ گھوڑے پر سوار ہو کے چل پڑا ..!!
قریب آدھے گھنٹے بعد ہی بادشاہ کو پیچھے گردو غبار اور آواز سنائ دی.
بادشاہ رک گیا اور دیکھا اس کا دوست تیزی سے آ رہا ہے.
بادشاہ نے پوچھا کیا ہوا..؟؟ سانس بھرتے ہوئے دوست نے
کہا
بادشاہ سلامت اے چابی غلط اے۔😛😂(Copied)

ایک خاتون بتاتی ہے.... میری عمر چھتیس سال ہے. میری لو میرج ہوئی تھی. ہم کلاس فیلوز تھے اور ایک دوسرے کو چھ سال سے جانتے ...
05/02/2022

ایک خاتون بتاتی ہے....

میری عمر چھتیس سال ہے. میری لو میرج ہوئی تھی. ہم کلاس فیلوز تھے اور ایک دوسرے کو چھ سال سے جانتے تھے. ہم بہترین دوست تھے. دورانِ تعلیم ہی ہم نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میرے شوہر کے جاب میں سیٹل ہونے کے بعد گھر والوں کی رضامندی سے ہم شادی کرلیں گے. میرے شوہر کی جاب کے بعد ہمارے گھر والے ملے اور ہماری شادی ہوگئی. اللہ نے ہمیں ایک بیٹے سے نوازا.

مجھے کالج کے زمانے سے ہی اندازہ تھا کہ میرے شوہر مزاج کے تیز ہیں. انہیں غصہ جلدی آتا ہے. لیکن ساتھ رہنے پر اندازہ ہوا کہ جب بھی انہیں غصہ آتا ہے ہمارا ہمیشہ جھگڑا ہوتا ہے. مجھے ہمیشہ یہ فیل ہوتا تھا کہ وہ مجھے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں. جب بھی جھگڑا زیادہ ہوتا میں اپنے بچے کو لے کر میکے چلی جاتی. میرے میکے والے مجھے سہارا دیتے، تسلیاں دیتے کہ اس نے تمہیں کیا لاوارث سمجھ رکھا ہے. میری بہنیں فون پہ میرے شوہر کو بے نقط سناتیں. بہرحال صلح صفائی ہوجاتی اور میں گھر آجاتی. لیکن یہ بات ہم دونوں جانتے تھے کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں اور میں اپنے شوہر کو کبھی بھی نہیں چھوڑنا چاہتی. لیکن ہر جھگڑے کے دوران انہیں یہ ضرور کہتی کہ اگر مجھے چھوڑنا ہے تو چھوڑ دیں. مجھے علم ہے کہ یہ سب میں صرف اپنی انا کو بلند رکھنے کے لیے کہتی تھی.

ایک بار ہمارا جھگڑا اتنا بڑھا کہ انہوں نے پہلی بار مجھ پہ ہاتھ اٹھایا اور گھر سے باہر نکال دیا. میں سیدھا اپنے میکے گئی. میرے گھر والے مجھے لے کر سیدھا پولیس اسٹیشن گئے. میرے شوہر اریسٹ ہوگئے. سسرال والوں نے مجھے کیس واپس لینے کے لیے کہا. میرے شوہر نے مجھ سے معافی مانگی اور کہا کہ آئندہ یہ سب نہیں ہوگا. میں نے کیس واپس لے لیا اور واپس اپنے گھر چلی گئی.

تین ماہ بعد ہمارا پھر سے جھگڑا ہوا اور میں ہمیشہ کی طرح بچہ اٹھا کر اپنے میکے چلی آئی. دو دن بعد مجھے خبر ملی کہ میرے شوہر اسپتال میں ہیں. میرے گھر والوں نے مشورہ دیا کہ مجھے انہیں دیکھنے جانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ میری بہنوں کا کہنا تھا کہ یہ سب ڈرامہ ہے تمہیں ایموشنلی بلیک میل کرنے کے لیے. وہ ایک ہفتہ اسپتال میں رہے. نہ میں ملنے گئی اور نہ ہی کال کی.

کچھ دنوں بعد مجھے طلاق کا سمن ملا. مجھے طلاق نہیں چاہیے تھی. مجھے اپنے شوہر سے محبت تھی. میں اپنا گھر خراب نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن میری انا آڑے آ رہی تھی. مجھے لگا کہ طلاق کا منع کر کے میں نیچی ہوجاؤں گی. میں نے انہیں کال کی کہ جب چاہیں طلاق لے لیں. میں بھی اس جہنم میں نہیں رہنا چاہتی.

کورٹ میں ہمارا کیس آسانی سے نمٹ گیا. میرے شوہر نے میری ساری ڈیمانڈز، بچے کی کسٹدی اور خرچہ دینا قبول کرلیا. ان کا کہنا تھا کہ وہ میری سب باتیں ماننے کے لیے تیار ہیں انہیں صرف طلاق چاہیے. اس طرح جولائی دو ہزار نو میں میری طلاق ہوگئی.

میرے شوہر نے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کرلی. ان کے بچے بھی ہوگئے لیکن میرے بچے سے ملنے اکثر آتے ہیں. اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں. بچے کا خرچہ مجھے پابندی سے ملتا ہے بلکہ میرا گزارا بھی انہی پیسوں سے ہوتا ہے.

میں اپنے بچے کے ساتھ میکے میں رہتی ہوں. میرے تمام بہن بھائی اپنی اپنی زندگی میں خوش ہیں. میری وہ بہنیں جو خود فون کر کے میرے شوہر کو باتیں سنایا کرتی تھیں وہ اب مجھے موردِ الزام ٹہراتی ہیں. مجھے اب احساس ہوتا ہے کہ میں اپنی شادی بچا سکتی تھی اگر میں نے ہر بات میں دوسروں کو نہ انوالو کیا ہوتا. کبھی کبھی ہمارے خیرخواہ ہی ہمیں ڈبوتے ہیں. میں ابھی بھی یہ نہیں کہہ رہی کہ میرے شوہر یا میری غلطی نہیں تھی لیکن ہمارے جھگڑے اتنے بڑے نہیں تھے جن کی وجہ سے طلاق لی جاتی.
یہ میری درخواست ہے سارے کپلز سے کہ جہاں تک ہوسکے اپنے معاملے خود نمٹائیں. آپ کا خود سے بڑھ کر کوئی خیرخواہ نہیں.

گائے کے مالک نے روز کتوں کے بھونکنے کیآواز سن کر سی سی ٹی کیمرہ لگانے کا فیصلہ کیاتو اس کو یہ حیرت انگیز منظر دیکھنے کو ...
05/02/2022

گائے کے مالک نے روز کتوں کے بھونکنے کی
آواز سن کر سی سی ٹی کیمرہ لگانے کا فیصلہ کیا

تو اس کو یہ حیرت انگیز منظر دیکھنے کو ملا کیا
دیکھتا ہے کے روز ایک چیتا آتا ہے اور گائے اسکو پیار کرتی ہے، اسکو چاٹ لیتی ہے ۔

اسنے گائے کے پرانے مالک سے معلوم کیا تو اسنے بتایا کے یہ چیتا صرف بیس دن کا تھا جب چیتے کی ماں فوت ہوگئی

تب سے گائے نے اسکو اپنا دودھ پلایا اور چیتا یہ سمجھتا ہے گائے اسکی ماں ہے تو چیتا اپنی ماں کی محبت میں روز گائے کو ملنے آتا ہے
❤️ ہے

‏کسی بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا :یہ میرے نوکر مجھ سے زیادہ کیسے خوش باش پھرتے ہیں ؟ جبکہ ان کے پاس کچھ نہیں اور میرے پ...
03/12/2021

‏کسی بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا :
یہ میرے نوکر مجھ سے زیادہ کیسے خوش باش پھرتے ہیں ؟ جبکہ ان کے پاس کچھ نہیں اور میرے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے؟

وزیر نے کہا :
بادشاہ سلامت ، اپنے کسی خادم پر قانون نمبر ننانوے کا استعمال کر کے دیکھیئے

بادشاہ نے پوچھا :
اچھا ، یہ قانون نمبر
‏ننانوے کیا ہوتا ہے ؟

وزیر نے کہا :
بادشاہ سلامت ، ایک صراحی میں ننانوے درہم ڈال کر ، صراحی پر لکھیئے اس میں تمہارے لیئے سو درہم ہدیہ ہے ، رات کو کسی خادم کے گھر کے دروازے کے سامنے رکھ کر دروازہ کھٹکھٹا کر ادھر اُدھر چھپ جائیں اور تماشہ دیکھ لیجیئے

بادشاہ نے یہ تجربہ کرنے کا ‏فیصلہ کیا اور جیسے وزیر نے سمجھایا تھا ، ویسے ہی کیا ، صراحی رکھنے کے بعد دروازہ کھٹکھٹایا اور چھپ کر تماشہ دیکھنا شروع کر دیا .

دستک سن کر اندر سے خادم نکلا ، صراحی اٹھائی اور گھر چلا گیا . درہم گِنے تو ننانوے نکلے ، جبکہ صراحی پر لکھا سو درہم تھا . خادم نے سوچا : یقیناََ ایک ‏درہم کہیں باہر گرا ہوگا . خادم اور اس کے سارے گھر والے باہر نکلے اوردرہم کی تلاش شروع کر دی.

ان کی ساری رات اسی تلاش میں گزر گئی . خادم کا غصہ اور بے چینی دیکھنے لائق تھی ۔ اس نے اپنے بیوی بچوں کو سخت سست بھی کہا کیونکہ وہ درہم تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے.

کچھ رات صبر اور باقی ‏کی رات بَک بَک اور جھَک جَھک میں گزری .

دوسرے دن یہ ملازم محل میں کام کرنے کیلئے گیا تو اس کا مزاج مکدر ، آنکھوں سے جگراتے ، کام سے جھنجھلاہٹ ، شکل پر افسردگی عیاں تھی .

بادشاہ سمجھ چکا تھا کہ ننانوے کا قانون کیا ہوا کرتا ہے .

لوگ ان 99 نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو الله تبارک و ‏تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی ہوتی ہیں. اور ساری زندگی اس ایک نعمت کے حصول میں سر گرداں رہ کر گزار دیتے ہیں جو انہیں نہیں ملی ہوتی

اور وہ ایک نعمت بھی الله کی کسی حکمت کی وجہ سے رُکی ہوئی ہوتی ہے جسے عطا کر دینا الله کیلئے بڑا کام نہیں ہوا کرتا.

لوگ اپنی اسی ایک مفقود نعمت کیلئے ‏سرگرداں رہ کر اپنے پاس موجود ننانوے نعمتوں کی لذتوں سے محروم مزاجوں کو مکدر کر کے جیتے ہیں .

حاصل ہو جانے والی ننانوے نعمتوں پر الله تبارک و تعالٰی کا احسان مانیئے اور ان سے مستفید ہو کر شکر گزار بندے بن کر رہیئے۔

منقول۔۔۔۔۔😂   *" اپنی  #زوجہ سے لڑنے کے فوائد "*آج تک آپ نے بیوی سے جھگڑے کے نقصانات پڑھے ہوں گے لیکن آئیے آج ہم آپ کو  ...
26/09/2021

منقول۔۔۔۔۔😂

*" اپنی #زوجہ سے لڑنے کے فوائد "*
آج تک آپ نے بیوی سے جھگڑے کے نقصانات پڑھے ہوں گے لیکن آئیے آج ہم آپ کو #بیوی سے لڑنے کے فوائد سے متعارف کراتے ہیں:

*1-* نیند میں کوئی خلل نہیں آتا
سُن رہے ہو کیا ،
لائٹ بند کرو ،
پنکھا بند کرو ،
کمبل ادھر دو ،
ادھر منہ کرو ،
وغیرہ

*2-* جب تک بیوی سے جھگڑا رہتا ہے، اس دوران بیوی پیسے نہیں مانگتی

*3-* جھگڑے کے دوران بات چیت بند ہوتی ہے جس سے روز روز کی کِچ کِچ کم ہوتی ہے اور شوہر بلا وجہ کشیدگی سے بچا رہتا ہے ۔

*4-* جو کام آپ خود کر سکتے ہیں وہ اس لیے نہیں کرتے کہ بیوی کر دیتی ہے، لڑائی کے بعد وہ چھوٹے موٹے کام
(خود اٹھ کر پانی پینا، نہانے کے لیے اپنے کپڑے خود نکالنا، اپنے لئے خود چائے بنانا) خود کر کے شوہر کام کرنے کا عادی ہو جاتا ہے ۔

*5-* جھگڑے کے دوران کام کے وقت آپ کو بیوی کی فالتو کالز (جانو کیا کر رہے ہو؟ دل نہیں لگ رہا ہے ،
آج موسم کیسا ہے ، کھانا کھایا تھا ؟ اس قسم کے فقرے ) نہیں آتے، جس سے آپ اپنے کام پر بھرپور توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔

*6-* سب سے زیادہ شوہروں کو کام کے بعد جلدی گھر آنے کے لئے گھر سے بار بار فون آتے ہیں. مگر ایک
بار جھگڑا ہو جانے کے بعد آپ کچھ دن تک اس فکر سے دور رہ سکتے ہیں۔

*7-* یہ انسان کی نفسیات ہے کہ جو چیز نہیں ہوتی اس کی قیمت کا احساس تب ہی ہوتا ہے، جھگڑے کے دوران
بیوی کو آپ کی قدر کا احساس ہوتا ہے ۔

*8-* آپس میں جھگڑے سے محبت بڑھتی ہے، کیوں کہ اکثر دیکھا گیا ہے ایک بار بارش ہو جائے تو موسم سہانا ہو جاتا ہے
تو آئیے عہد کریں کہ آج کے بعد آپ سب شوہر مہینے میں ایک نہ ایک بار اپنی بیوی سے جھگڑا
ضرور کریں گے *(بیوی تو ہمیشہ تیار رہتی ہے)*
تاکہ ایک ماہ میں کچھ دن شوہر حضرات بھی کچھ وقت امن و سکون سے گزار سکیں ۔
اور ساتھ میں سب کنواروں کے لیے بھی دعا کریں تا کہ ان کی زندگی میں بھی کوئی ایسی آئے جس سے وہ "جھگڑا" کرسکیں...
*شوہروں کے مفاد میں جاری نوٹ:👇🏽*
1- جھگڑا اپنے رسک پر اور اپنی جسمانی صحت کے مطابق کریں۔
2- جھگڑے کے ضمنی اثرات کی ذمہ داری مصنف کی نہیں ہوگی۔
3 -زنانہ آلاتِ حرب (بیلن ،ڈنڈا،جھاڑو) سے بچنے کا خود بندوبست کریں۔

Address

Kuningan

Telephone

+923428623279

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when niazi_qasim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to niazi_qasim:

Share