Garage Queen

Call Website Contact the business

Garage Queen Whatsaap us (03300393863)your car pictures and details we'll post it on our page thanks.

Honda City I-DSIModel 2006Islamabad Registered Seal To Seal Geniune 💯Totally Geiune Paint💯144k driven No Work Required J...
17/08/2026

Honda City I-DSI
Model 2006
Islamabad Registered
Seal To Seal Geniune 💯
Totally Geiune Paint💯
144k driven
No Work Required Just buy & drive

Location Rawalpindi

Contact Owner 0315-7204292

_____________________________________
For posting yours car sponserd ad contact us through whatsaap 03300393863 (Page number)

For buying and selling join whatsaap group

https://chat.whatsapp.com/EgfOVZMqLMn4w4ZV4xAlzr?s=cl&p=a&mlu=4

https://chat.whatsapp.com/C9nKXLccpuEENysjnsw3s3?s=cl&p=a&mlu=4

https://chat.whatsapp.com/GgvgxXZRQBQCQNErHzouya?s=cl&p=a&mlu=4

زاہد نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ گاڑی کا steering wheel ایک دن اسے اتنا پریشان کرے گا کہ وہ اپنی driving ہی پر شک کرنے لگے ...
17/08/2026

زاہد نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ گاڑی کا steering wheel ایک دن اسے اتنا پریشان کرے گا کہ وہ اپنی driving ہی پر شک کرنے لگے گا۔ مسئلہ یہ تھا کہ شہر کے اندر گاڑی بالکل نارمل چلتی تھی۔ Steering نرم تھا۔ گاڑی سیدھی چلتی تھی اور braking بھی ٹھیک محسوس ہوتی تھی۔ لیکن جیسے ہی وہ highway پر رفتار تھوڑی بڑھاتا steering wheel میں ہلکی سی vibration شروع ہو جاتی۔ پہلے vibration اتنی کم تھی کہ اسے محسوس کرنے کے لیے شاید steering کو غور سے پکڑنا پڑتا تھا۔ زاہد نے اسے نظر انداز کیا اور کہا کہ پاکستانی سڑکوں پر اگر steering بالکل smooth رہے تو پھر گاڑی کو سرکاری گاڑی سمجھنا چاہیے۔ اس نے سوچا کہ تھوڑی vibration تو سڑک کی وجہ سے ہوگی۔ آخر سڑکیں بھی اپنی شخصیت رکھتی ہیں۔ کبھی smooth اور کبھی ایسی کہ گاڑی کو لگتا ہے وہ off road rally میں شامل ہو گئی ہے۔

چند ہفتے گزر گئے۔ اب vibration کچھ زیادہ واضح ہونے لگی تھی۔ خاص طور پر جب گاڑی کی رفتار تقریباً 80 سے 100 کے درمیان پہنچتی تو steering wheel ہلکا ہلکا کانپنے لگتا۔ زاہد نے ایک دن دوست کو بتایا تو دوست نے فوراً کہا کہ tyres میں ہوا check کرو۔ دوسرے نے کہا wheel alignment کرواؤ۔ تیسرے نے کہا شاید steering rack خراب ہے۔ چوتھے نے کہا brake discs ہوں گے۔ پانچویں نے کہا کہ گاڑی بیچ دو اور نئی لے لو۔ پانچواں مشورہ ہمیشہ سب سے آسان ہوتا ہے کیونکہ اس میں diagnosis بھی نہیں کرنا پڑتا اور mechanic کو بھی پیسے نہیں دینے پڑتے۔ زاہد نے سب کی باتیں سنیں اور آخر میں فیصلہ کیا کہ پہلے tyres دیکھے جائیں گے۔

وہ tyre shop پہنچا۔ چاروں tyres میں pressure check کیا گیا۔ ایک tyre میں pressure تھوڑا کم تھا۔ زاہد نے فوراً سمجھ لیا کہ اصل مجرم مل گیا۔ اس نے pressure برابر کروایا اور خوشی سے گھر واپس آ گیا۔ اگلے دن highway پر نکلا تو steering پھر کانپنے لگا۔ اس بار زاہد نے steering کو دیکھا اور کہا کہ تمہیں آخر چاہیے کیا۔ steering نے جواب نہیں دیا کیونکہ گاڑی کے parts عام طور پر اس وقت جواب نہیں دیتے جب مالک کو جواب چاہیے ہوتا ہے۔ زاہد نے سوچا شاید alignment کروانے سے مسئلہ ختم ہو جائے گا۔

Alignment کروائی گئی۔ Mechanic نے گاڑی کے wheels adjust کیے اور بتایا کہ اب angles بہتر ہیں۔ زاہد نے گاڑی چلائی۔ شہر کے اندر سب کچھ ٹھیک تھا۔ پھر highway پر رفتار بڑھائی تو چند منٹ بعد steering میں دوبارہ vibration محسوس ہوئی۔ زاہد نے steering کو مضبوطی سے پکڑا اور کہا کہ یہ تو واقعی ضدی مسئلہ ہے۔ اسے اب اندازہ ہونے لگا تھا کہ ہر بار کوئی part تبدیل کرنا یا adjustment کروانا diagnosis نہیں ہوتا۔ اصل وجہ تلاش کرنا ضروری ہے۔

اس نے ایک experienced workshop کا رخ کیا۔ Mechanic نے زاہد کی شکایت سن کر فوراً کہا کہ vibration کس speed پر آتی ہے۔ زاہد نے بتایا کہ کم رفتار پر نہیں آتی لیکن highway speed پر واضح ہو جاتی ہے۔ Mechanic نے کہا کہ یہ information بہت اہم ہے۔ ہر vibration ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اگر vibration صرف خاص speed range میں محسوس ہو تو wheel balance اور tyre related issues کو پہلے check کرنا چاہیے۔ اگر braking کے وقت vibration آئے تو brake system بھی suspect ہو سکتا ہے۔ اگر acceleration کے وقت vibration ہو تو drivetrain یا engine mounts سمیت مختلف causes دیکھنے پڑ سکتے ہیں۔ یعنی گاڑی کا کانپنا صرف یہ نہیں بتاتا کہ گاڑی ڈر رہی ہے۔ وہ یہ بھی بتا سکتی ہے کہ مسئلہ کس condition میں ظاہر ہو رہا ہے۔

Mechanic نے سب سے پہلے wheels کو inspect کیا۔ ایک wheel کے rim پر معمولی سا bend نظر آیا۔ زاہد نے پوچھا کہ یہ bend تو بہت چھوٹا ہے۔ کیا واقعی اس سے steering کانپ سکتی ہے۔ Mechanic نے بتایا کہ wheel کی shape میں معمولی deformation بھی high speed پر balance اور tyre rotation کو متاثر کر سکتی ہے۔ کم رفتار پر شاید فرق محسوس نہ ہو لیکن جیسے جیسے wheel تیزی سے گھومتا ہے imbalance زیادہ noticeable ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ tyre کی condition بھی اہم ہے۔ اگر tyre میں uneven wear ہو یا وہ properly seated نہ ہو تو vibration پیدا ہو سکتی ہے۔

زاہد نے پوچھا کہ wheel balance بھی check ہوگا۔ Mechanic نے کہا بالکل۔ Wheel balancing کا مقصد wheel اور tyre assembly کے weight distribution کو مناسب بنانا ہے۔ اگر assembly میں imbalance ہو تو rotation کے دوران centrifugal forces پیدا ہو سکتی ہیں اور certain speeds پر vibration محسوس ہو سکتی ہے۔ زاہد نے کہا کہ یعنی tyre گول ہے پھر بھی balance خراب ہو سکتا ہے۔ Mechanic نے ہنس کر کہا کہ انسان بھی سیدھا کھڑا ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی balance خراب ہو جاتا ہے۔ Wheel بھی اسی دنیا کا حصہ ہے۔

چاروں wheels کی balancing check کی گئی۔ ایک wheel میں واضح imbalance سامنے آیا۔ وزن adjust کیا گیا اور پھر road test کیا گیا۔ زاہد نے گاڑی highway پر لے جا کر دوبارہ speed بڑھائی۔ اس بار steering کافی smooth رہی۔ جس speed پر پہلے vibration شروع ہو جاتی تھی وہاں اب steering تقریباً stable تھی۔ زاہد نے گاڑی واپس workshop میں لا کر کہا کہ اتنی سی چیز نے مجھے کئی دن پریشان رکھا۔ Mechanic نے کہا کہ مسئلہ چھوٹا تھا لیکن اگر اسے ignore کرتے رہتے تو tyre wear اور driving comfort دونوں متاثر ہو سکتے تھے۔

Mechanic نے زاہد کو ایک اور اہم بات بتائی۔ اگر steering wheel vibration ہو تو صرف wheel balancing کروا لینا ہر بار کافی نہیں ہوتا۔ Tyres کی condition بھی دیکھنی چاہیے۔ اگر tyre میں bulge ہو۔ sidewall damaged ہو۔ tread uneven ہو یا tyre میں structural problem ہو تو اسے صرف balancing weight لگا کر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح wheel alignment اور suspension components بھی inspection کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ بعض cases میں wheel bearing یا steering components بھی vibration یا unusual handling کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے symptom کو دیکھ کر ایک ہی part کو فوراً خراب قرار دینا درست نہیں۔

زاہد نے پوچھا کہ اگر steering صرف braking کے دوران کانپے تو کیا ہوگا۔ Mechanic نے بتایا کہ پھر brake system کو زیادہ attention دینی ہوگی۔ Brake disc کی condition۔ pad contact اور related components inspect کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر vibration صرف acceleration کے وقت آئے تو diagnosis کا direction مختلف ہو سکتا ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ vibration کب آتی ہے۔ کس speed پر آتی ہے اور کس driving condition میں بڑھتی ہے۔

زاہد کو اب سمجھ آ گئی تھی کہ گاڑی کی ہر vibration کا اپنا context ہوتا ہے۔ وہ پہلے صرف اتنا جانتا تھا کہ steering کانپ رہا ہے۔ اب وہ جانتا تھا کہ mechanic کو صحیح information دینا diagnosis کو آسان بنا سکتا ہے۔ اگر وہ صرف یہ کہتا کہ گاڑی کانپتی ہے تو mechanic کے پاس possibilities کی ایک لمبی list ہوتی۔ لیکن اگر وہ بتائے کہ steering صرف 90 کے قریب speed پر کانپتا ہے اور braking کے دوران نہیں تو diagnosis زیادہ focused ہو سکتا ہے۔

اس دن کے بعد زاہد نے ایک عادت بدل دی۔ اب اگر گاڑی میں کوئی نئی vibration محسوس ہو تو وہ اسے صرف road کا مسئلہ نہیں سمجھتا۔ وہ یہ observe کرتا ہے کہ vibration steering میں ہے یا پوری body میں۔ کم speed پر ہے یا high speed پر۔ braking کے دوران ہے یا acceleration کے دوران۔ اور کیا tyre یا suspension میں کوئی واضح مسئلہ موجود ہے۔

اس نے اپنے دوستوں سے کہا کہ گاڑی کو سمجھنے کے لیے mechanic بننا ضروری نہیں۔ صرف اس کی شکایت کو صحیح طریقے سے observe کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ گاڑی اکثر پہلے symptom دیتی ہے اور بعد میں خرچہ۔

زاہد اب highway پر گاڑی چلاتے ہوئے steering کو پہلے سے زیادہ محسوس کرتا ہے۔ اگر سب smooth ہو تو اسے سکون ملتا ہے۔ اگر کوئی نئی vibration محسوس ہو تو وہ اسے اگلے مہینے تک postpone نہیں کرتا۔

کیونکہ اسے اب معلوم ہو چکا ہے کہ high speed پر steering کا کانپنا صرف irritation نہیں ہو سکتا۔

یہ tyre balance کی warning ہو سکتی ہے۔

یہ wheel کی condition کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔

یہ alignment یا suspension کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔

اور بعض حالات میں یہ safety issue بھی بن سکتا ہے۔

اب آپ بتائیں۔

اگر آپ کی گاڑی کا steering wheel صرف highway speed پر کانپنے لگے تو کیا آپ اسے سڑک کا مسئلہ سمجھ کر ignore کریں گے یا سب سے پہلے tyres اور wheel balancing check کروائیں گے۔

اور کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ کی گاڑی کم speed پر بالکل smooth ہو لیکن speed بڑھاتے ہی steering اچانک کانپنے لگے۔

Join our group for buying and selling

https://www.facebook.com/share/g/1C2S1RVAbQ

Antique PieceAxio fildarPunjab registered Model 2007G grade Push start Lahor register Body Untouch 2nd ownerContact Owne...
17/08/2026

Antique Piece
Axio fildar
Punjab registered
Model 2007
G grade
Push start
Lahor register
Body Untouch
2nd owner

Contact Owner 03250018585
_____________________________
For posting yours car sponserd ad contact us through whatsaap 03300393863 (Page number)

For buying and selling join whatsaap group

https://chat.whatsapp.com/EgfOVZMqLMn4w4ZV4xAlzr?s=cl&p=a&mlu=4

https://chat.whatsapp.com/C9nKXLccpuEENysjnsw3s3?s=cl&p=a&mlu=4

https://chat.whatsapp.com/GgvgxXZRQBQCQNErHzouya?s=cl&p=a&mlu=4

Toyota Corolla GLiModel 2010Islamabad Registered100,000 KM MileageMechanical 10/10AC & Heater 10/10Minor Patches on Some...
17/08/2026

Toyota Corolla GLi
Model 2010
Islamabad Registered
100,000 KM Mileage
Mechanical 10/10
AC & Heater 10/10
Minor Patches on Some Side Pieces
Clean & Well-Maintained Car

Location: G-11 Markaz Islamabad

Contact Owner 03336741610

______________________________
For posting yours car sponserd ad contact us through whatsaap 03300393863 (Page number)

For buying and selling join whatsaap group

https://chat.whatsapp.com/EgfOVZMqLMn4w4ZV4xAlzr?s=cl&p=a&mlu=4

https://chat.whatsapp.com/C9nKXLccpuEENysjnsw3s3?s=cl&p=a&mlu=4

https://chat.whatsapp.com/GgvgxXZRQBQCQNErHzouya?s=cl&p=a&mlu=4

ارسلان نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ گاڑی کے ایک ٹائر کو دیکھ کر اسے اپنی پچھلی دو سال کی ڈرائیونگ پر شک ہونے لگے گا۔ وہ اپنی...
17/08/2026

ارسلان نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ گاڑی کے ایک ٹائر کو دیکھ کر اسے اپنی پچھلی دو سال کی ڈرائیونگ پر شک ہونے لگے گا۔ وہ اپنی گاڑی کو دیکھنے کے معاملے میں کافی محتاط تھا۔ ہر ہفتے گاڑی دھلواتا تھا۔ انجن آئل وقت پر تبدیل کرواتا تھا اور اگر bonnet کے اندر کوئی نئی آواز آ جائے تو فوراً mechanic کے پاس پہنچ جاتا تھا۔ لیکن ایک چیز وہ ہمیشہ نظر انداز کرتا تھا۔ ٹائروں کو وہ صرف اس وقت دیکھتا تھا جب ان میں ہوا کم ہو یا پنکچر ہو جائے۔ اس کے خیال میں ٹائر کا کام صرف گاڑی کو سڑک پر چلانا تھا۔ جب تک ٹائر پھٹا نہیں تھا اور گاڑی چل رہی تھی تب تک سب کچھ ٹھیک تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ ایک دن ایک ٹائر اسے ایسی نشانی دکھائے گا جسے وہ پہلے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا۔

ایک صبح ارسلان نے گاڑی صاف کرتے ہوئے دیکھا کہ سامنے والے ٹائر کا اندرونی حصہ عجیب طرح سے گھسا ہوا تھا۔ باہر سے ٹائر کافی مناسب لگ رہا تھا۔ tread بھی موجود تھا اور دیکھنے میں ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن جب اس نے ہاتھ ٹائر کے اندرونی حصے پر پھیرا تو اسے محسوس ہوا کہ ایک طرف rubber کافی کم ہو چکا ہے۔ ارسلان نے فوراً کہا کہ شاید ٹائر ہی خراب ہے۔ یہی وہ جملہ ہے جو ہم اکثر بولتے ہیں جب گاڑی ہمیں کوئی ایسی بات بتاتی ہے جس کا تعلق ہماری اپنی negligence سے ہو۔ اگر ٹائر خراب ہو تو ذمہ داری ٹائر کی۔ اگر average کم ہو تو پٹرول خراب۔ اگر گاڑی ایک طرف کھنچے تو سڑک خراب۔ مالک تقریباً کبھی غلط نہیں ہوتا۔

ارسلان نے ٹائر والے دوست کو تصویر بھیجی اور پوچھا کہ بھائی یہ کیا مسئلہ ہے۔ دوست نے جواب دیا کہ صرف ٹائر بدلنے سے پہلے alignment check کرواؤ۔ ارسلان نے پوچھا کہ alignment کا ٹائر کے گھسنے سے کیا تعلق ہے۔ دوست نے کہا بہت تعلق ہے۔ اگر wheel alignment درست نہ ہو تو tyre سڑک پر صحیح angle کے ساتھ contact نہیں کرتا اور tread غیر معمولی انداز میں گھس سکتا ہے۔ ارسلان نے کہا کہ گاڑی تو سیدھی چلتی ہے۔ دوست نے جواب دیا کہ گاڑی سیدھی چلنا اور tyres کا صحیح طریقے سے سڑک پر چلنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ ارسلان نے یہ بات سن کر پہلی بار سوچا کہ شاید گاڑی کی کچھ خرابیاں واقعی آنکھ سے نہیں بلکہ tyre کے pattern سے پڑھی جاتی ہیں۔

اگلے دن وہ ایک اچھی workshop پر گیا۔ مکینک نے دونوں front tyres کو غور سے دیکھا۔ پھر گاڑی کو alignment machine پر رکھا۔ کچھ measurements لینے کے بعد اس نے کہا کہ front wheel alignment میں معمولی فرق موجود ہے۔ ارسلان نے پوچھا کہ کیا یہی وجہ ہے کہ tyre اندر سے گھس رہا ہے۔ مکینک نے کہا کہ ممکن ہے۔ لیکن صرف alignment کو ذمہ دار قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ suspension components کی condition بھی دیکھنی ہوگی۔ tyre pressure بھی چیک کرنا ہوگا اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ گاڑی کبھی کسی بڑے pothole یا curb سے زور سے ٹکرائی تو نہیں۔

ارسلان نے کہا کہ pothole سے تو روزانہ ہی واسطہ پڑتا ہے۔ مکینک نے ہنس کر جواب دیا کہ پھر پاکستانی سڑکوں پر گاڑی چلانے والوں کو suspension کی maintenance کی ضرورت بھی روزانہ سمجھنی چاہیے۔ اس نے ball joints۔ tie rod ends۔ control arm bushes اور wheel bearing سمیت متعلقہ components inspect کیے۔ ایک suspension bush میں wear نظر آئی۔ یہ wear اتنی زیادہ نہیں تھی کہ گاڑی فوری طور پر unsafe محسوس ہو لیکن wheel geometry پر اثر ڈالنے کے لیے کافی ہو سکتی تھی۔ مکینک نے سمجھایا کہ suspension کا کوئی component معمول سے زیادہ loose ہو جائے تو wheel alignment driving کے دوران بھی بدل سکتا ہے۔ اس صورت میں صرف alignment کروا دینا مستقل حل نہیں ہوتا۔

ارسلان نے پوچھا کہ اگر alignment غلط ہو تو گاڑی کو کیسے پتہ چلتا ہے۔ مکینک نے کہا گاڑی کو پتہ چلتا ہے۔ تمہیں نہیں چلتا۔ پھر اس نے سمجھایا کہ غیر معمولی tyre wear کی مختلف patterns مختلف مسائل کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔ اگر tread کا ایک حصہ زیادہ گھسے تو alignment یا suspension geometry کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اگر دونوں کنارے زیادہ گھس رہے ہوں تو tyre pressure کم ہونے کا امکان دیکھا جاتا ہے۔ اگر درمیان کا حصہ زیادہ گھس رہا ہو تو pressure زیادہ ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔ اگر tyre میں uneven patches یا cupping جیسا wear ہو تو suspension یا wheel balance جیسے مسائل بھی check کیے جا سکتے ہیں۔ البتہ ہر pattern کو صرف ایک ہی خرابی سے جوڑنا درست نہیں کیونکہ tyre type اور driving conditions بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

ارسلان نے اپنے پچھلے دو سال یاد کیے۔ وہ اکثر گاڑی کو تیز رفتار سے speed breakers پر چڑھاتا تھا۔ potholes کو آخری لمحے میں avoid کرتا تھا اور کبھی کبھی parking میں curb پر tyre چڑھا دیتا تھا۔ اسے اچانک سمجھ آیا کہ گاڑی نے شاید کئی بار اسے warning دی تھی۔ steering کبھی تھوڑا مختلف محسوس ہوا تھا۔ ایک دو بار گاڑی نے braking کے بعد ہلکی سی side movement بھی کی تھی۔ لیکن ہر بار اس نے اسے سڑک کا مسئلہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ اب اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ شاید وہ signals پہلے سے موجود تھے۔

مکینک نے اسے یہ بھی بتایا کہ نئے tyres لگانے سے پہلے اصل وجہ تلاش کرنا ضروری ہے۔ اگر alignment یا suspension issue موجود ہو اور مالک صرف نئے tyres لگوا دے تو کچھ عرصے بعد نئے tyres بھی اسی طرح گھس سکتے ہیں۔ یعنی چار نئے tyres خرید کر پرانا مسئلہ دوبارہ پیدا کرنا ایسی investment ہے جس میں صرف tyre shop خوش ہوتا ہے۔ ارسلان نے ہنس کر کہا کہ یعنی میں اگر صرف tyre بدلوا لیتا تو پھر چند مہینوں بعد دوبارہ یہی خرچہ کرنا پڑتا۔ مکینک نے کہا بالکل۔ اسی لیے tyre wear کو صرف tyre کا مسئلہ سمجھنا ہمیشہ درست نہیں۔

Suspension bush replace کی گئی۔ wheel alignment manufacturer specifications کے مطابق set کیا گیا اور tyre pressure بھی مناسب level پر رکھا گیا۔ جس tyre میں اندرونی wear بہت زیادہ ہو چکا تھا اسے replace کرنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ tread باقی ہونے کے باوجود اس کی condition قابل اعتماد نہیں رہی تھی۔ مکینک نے ارسلان کو کہا کہ tyre کی باقی tread depth دیکھنا ضروری ہے لیکن صرف tread باقی ہونا کافی نہیں۔ tyre کی عمر۔ cracks۔ uneven wear اور overall condition بھی دیکھنی چاہیے۔

گاڑی واپس سڑک پر آئی تو ارسلان نے فوراً steering کا feel محسوس کیا۔ گاڑی زیادہ balanced لگ رہی تھی۔ steering response بھی بہتر محسوس ہوا اور road پر چلتے ہوئے گاڑی پہلے کی طرح معمولی side movement نہیں کر رہی تھی۔ ارسلان نے کہا کہ مجھے تو لگتا تھا alignment صرف وہ لوگ کرواتے ہیں جنہیں گاڑی کی شکل زیادہ سیدھی چاہیے۔ مکینک نے کہا کہ alignment گاڑی کی شکل کے لیے نہیں بلکہ wheel geometry اور tyre contact کے لیے ہوتی ہے۔ اگر angle مناسب نہ ہو تو tyre wear بھی ہو سکتا ہے اور handling بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

اس واقعے کے بعد ارسلان نے ایک اصول بنا لیا۔ اب وہ صرف tyre میں ہوا نہیں دیکھتا۔ وہ tyre کا wear pattern بھی دیکھتا ہے۔ اگر tread ایک طرف سے تیزی سے ختم ہو رہی ہو تو اسے فوراً check کرواتا ہے۔ اگر steering میں نئی تبدیلی محسوس ہو تو اسے ignore نہیں کرتا۔ اگر گاڑی pothole سے زور سے ٹکرائے تو suspension اور alignment کی inspection کرواتا ہے۔ اور اگر نئے tyres خریدنے پڑیں تو پہلے یہ معلوم کرتا ہے کہ پرانے tyres غیر معمولی طریقے سے کیوں گھسے۔

اس نے اپنے دوستوں سے کہا کہ ہم گاڑی کا engine دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں۔ shiny bonnet دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور نئی polish کے بعد سمجھتے ہیں کہ گاڑی بالکل fresh ہے۔ لیکن اصل میں گاڑی کے tyres ہمیں وہ سچ بتا سکتے ہیں جو owner سننا نہیں چاہتا۔ اگر tyre ایک طرف سے غیر معمولی طور پر گھس رہا ہے تو شاید گاڑی خاموشی سے کسی مسئلے کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

اور شاید گاڑی کی سب سے دلچسپ بات یہی ہے۔

وہ اکثر خرابی کا شور بعد میں کرتی ہے۔

پہلے وہ نشانیاں دکھاتی ہے۔

ہم ہی انہیں دیکھ کر کہتے ہیں کہ ابھی تو چل رہی ہے۔

اب آپ بتائیں۔

اگر آپ کی گاڑی کا tyre باہر سے بالکل ٹھیک نظر آئے لیکن اندرونی حصہ تیزی سے گھس رہا ہو تو کیا آپ صرف tyre تبدیل کروائیں گے یا پہلے alignment اور suspension کی اصل وجہ تلاش کریں گے۔

اور کیا آپ نے کبھی اپنے گاڑی کے tyres کو غور سے دیکھ کر کوئی ایسی خرابی پکڑی ہے جو پہلے آپ کی نظر میں نہیں آئی تھی۔
Join our group for buying and selling

https://www.facebook.com/share/g/1C2S1RVAbQ

17/08/2026

Honda Civic Reborn i-VTEC Oriel Manual/Sunroof
Home used
Model 2007
Condition Excellent
Tyres A1
Oil a week ago changed
Fuel average 15+
AC chilled
smoth drive
Engine, suspension Excellent inner total seal pack & outsider showered
100% Non-Accidental
All electrical and electronic features are Fully Functional
Everything is in working condition
Alloy rim
Home used car
Registered: Lahore
Demand:1990000 (very less negotiable)

Location Sargodha

Contact Owner 03288785724

__________________________
For posting yours car sponserd ad contact us through whatsaap 03300393863 (Page number)

For buying and selling join whatsaap group

https://chat.whatsapp.com/EgfOVZMqLMn4w4ZV4xAlzr?s=cl&p=a&mlu=4

https://chat.whatsapp.com/C9nKXLccpuEENysjnsw3s3?s=cl&p=a&mlu=4

https://chat.whatsapp.com/GgvgxXZRQBQCQNErHzouya?s=cl&p=a&mlu=4

SUZUKI CULTUS 2012 EURO IITotaly Genuine Car. Original Book Smart Card Number Plates Of This Car Is Also Available. All ...
17/08/2026

SUZUKI CULTUS 2012 EURO II

Totaly Genuine Car.
Original Book Smart Card Number Plates Of This Car Is Also Available.
All Original Documents are Complete.
All Taxes Paid. Lifetime Token Tax Paid.
Sealed and Powerful Engine.
Power Steering Power Window
AC+Heter Working Condition
Average 20+ Km Per Litres
New tyres
biometric moqe pe.
Lahore number new number All Punjab

Contact Owner 03133808014
_____________________________________
For posting yours car sponserd ad contact us through whatsaap 03300393863 (Page number)

For buying and selling join whatsaap group

https://chat.whatsapp.com/EgfOVZMqLMn4w4ZV4xAlzr?s=cl&p=a&mlu=4

https://chat.whatsapp.com/C9nKXLccpuEENysjnsw3s3?s=cl&p=a&mlu=4

https://chat.whatsapp.com/GgvgxXZRQBQCQNErHzouya?s=cl&p=a&mlu=4

Address

Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Garage Queen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Garage Queen:

Shortcuts

Share

Category