17/08/2026
زاہد نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ گاڑی کا steering wheel ایک دن اسے اتنا پریشان کرے گا کہ وہ اپنی driving ہی پر شک کرنے لگے گا۔ مسئلہ یہ تھا کہ شہر کے اندر گاڑی بالکل نارمل چلتی تھی۔ Steering نرم تھا۔ گاڑی سیدھی چلتی تھی اور braking بھی ٹھیک محسوس ہوتی تھی۔ لیکن جیسے ہی وہ highway پر رفتار تھوڑی بڑھاتا steering wheel میں ہلکی سی vibration شروع ہو جاتی۔ پہلے vibration اتنی کم تھی کہ اسے محسوس کرنے کے لیے شاید steering کو غور سے پکڑنا پڑتا تھا۔ زاہد نے اسے نظر انداز کیا اور کہا کہ پاکستانی سڑکوں پر اگر steering بالکل smooth رہے تو پھر گاڑی کو سرکاری گاڑی سمجھنا چاہیے۔ اس نے سوچا کہ تھوڑی vibration تو سڑک کی وجہ سے ہوگی۔ آخر سڑکیں بھی اپنی شخصیت رکھتی ہیں۔ کبھی smooth اور کبھی ایسی کہ گاڑی کو لگتا ہے وہ off road rally میں شامل ہو گئی ہے۔
چند ہفتے گزر گئے۔ اب vibration کچھ زیادہ واضح ہونے لگی تھی۔ خاص طور پر جب گاڑی کی رفتار تقریباً 80 سے 100 کے درمیان پہنچتی تو steering wheel ہلکا ہلکا کانپنے لگتا۔ زاہد نے ایک دن دوست کو بتایا تو دوست نے فوراً کہا کہ tyres میں ہوا check کرو۔ دوسرے نے کہا wheel alignment کرواؤ۔ تیسرے نے کہا شاید steering rack خراب ہے۔ چوتھے نے کہا brake discs ہوں گے۔ پانچویں نے کہا کہ گاڑی بیچ دو اور نئی لے لو۔ پانچواں مشورہ ہمیشہ سب سے آسان ہوتا ہے کیونکہ اس میں diagnosis بھی نہیں کرنا پڑتا اور mechanic کو بھی پیسے نہیں دینے پڑتے۔ زاہد نے سب کی باتیں سنیں اور آخر میں فیصلہ کیا کہ پہلے tyres دیکھے جائیں گے۔
وہ tyre shop پہنچا۔ چاروں tyres میں pressure check کیا گیا۔ ایک tyre میں pressure تھوڑا کم تھا۔ زاہد نے فوراً سمجھ لیا کہ اصل مجرم مل گیا۔ اس نے pressure برابر کروایا اور خوشی سے گھر واپس آ گیا۔ اگلے دن highway پر نکلا تو steering پھر کانپنے لگا۔ اس بار زاہد نے steering کو دیکھا اور کہا کہ تمہیں آخر چاہیے کیا۔ steering نے جواب نہیں دیا کیونکہ گاڑی کے parts عام طور پر اس وقت جواب نہیں دیتے جب مالک کو جواب چاہیے ہوتا ہے۔ زاہد نے سوچا شاید alignment کروانے سے مسئلہ ختم ہو جائے گا۔
Alignment کروائی گئی۔ Mechanic نے گاڑی کے wheels adjust کیے اور بتایا کہ اب angles بہتر ہیں۔ زاہد نے گاڑی چلائی۔ شہر کے اندر سب کچھ ٹھیک تھا۔ پھر highway پر رفتار بڑھائی تو چند منٹ بعد steering میں دوبارہ vibration محسوس ہوئی۔ زاہد نے steering کو مضبوطی سے پکڑا اور کہا کہ یہ تو واقعی ضدی مسئلہ ہے۔ اسے اب اندازہ ہونے لگا تھا کہ ہر بار کوئی part تبدیل کرنا یا adjustment کروانا diagnosis نہیں ہوتا۔ اصل وجہ تلاش کرنا ضروری ہے۔
اس نے ایک experienced workshop کا رخ کیا۔ Mechanic نے زاہد کی شکایت سن کر فوراً کہا کہ vibration کس speed پر آتی ہے۔ زاہد نے بتایا کہ کم رفتار پر نہیں آتی لیکن highway speed پر واضح ہو جاتی ہے۔ Mechanic نے کہا کہ یہ information بہت اہم ہے۔ ہر vibration ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اگر vibration صرف خاص speed range میں محسوس ہو تو wheel balance اور tyre related issues کو پہلے check کرنا چاہیے۔ اگر braking کے وقت vibration آئے تو brake system بھی suspect ہو سکتا ہے۔ اگر acceleration کے وقت vibration ہو تو drivetrain یا engine mounts سمیت مختلف causes دیکھنے پڑ سکتے ہیں۔ یعنی گاڑی کا کانپنا صرف یہ نہیں بتاتا کہ گاڑی ڈر رہی ہے۔ وہ یہ بھی بتا سکتی ہے کہ مسئلہ کس condition میں ظاہر ہو رہا ہے۔
Mechanic نے سب سے پہلے wheels کو inspect کیا۔ ایک wheel کے rim پر معمولی سا bend نظر آیا۔ زاہد نے پوچھا کہ یہ bend تو بہت چھوٹا ہے۔ کیا واقعی اس سے steering کانپ سکتی ہے۔ Mechanic نے بتایا کہ wheel کی shape میں معمولی deformation بھی high speed پر balance اور tyre rotation کو متاثر کر سکتی ہے۔ کم رفتار پر شاید فرق محسوس نہ ہو لیکن جیسے جیسے wheel تیزی سے گھومتا ہے imbalance زیادہ noticeable ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ tyre کی condition بھی اہم ہے۔ اگر tyre میں uneven wear ہو یا وہ properly seated نہ ہو تو vibration پیدا ہو سکتی ہے۔
زاہد نے پوچھا کہ wheel balance بھی check ہوگا۔ Mechanic نے کہا بالکل۔ Wheel balancing کا مقصد wheel اور tyre assembly کے weight distribution کو مناسب بنانا ہے۔ اگر assembly میں imbalance ہو تو rotation کے دوران centrifugal forces پیدا ہو سکتی ہیں اور certain speeds پر vibration محسوس ہو سکتی ہے۔ زاہد نے کہا کہ یعنی tyre گول ہے پھر بھی balance خراب ہو سکتا ہے۔ Mechanic نے ہنس کر کہا کہ انسان بھی سیدھا کھڑا ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی balance خراب ہو جاتا ہے۔ Wheel بھی اسی دنیا کا حصہ ہے۔
چاروں wheels کی balancing check کی گئی۔ ایک wheel میں واضح imbalance سامنے آیا۔ وزن adjust کیا گیا اور پھر road test کیا گیا۔ زاہد نے گاڑی highway پر لے جا کر دوبارہ speed بڑھائی۔ اس بار steering کافی smooth رہی۔ جس speed پر پہلے vibration شروع ہو جاتی تھی وہاں اب steering تقریباً stable تھی۔ زاہد نے گاڑی واپس workshop میں لا کر کہا کہ اتنی سی چیز نے مجھے کئی دن پریشان رکھا۔ Mechanic نے کہا کہ مسئلہ چھوٹا تھا لیکن اگر اسے ignore کرتے رہتے تو tyre wear اور driving comfort دونوں متاثر ہو سکتے تھے۔
Mechanic نے زاہد کو ایک اور اہم بات بتائی۔ اگر steering wheel vibration ہو تو صرف wheel balancing کروا لینا ہر بار کافی نہیں ہوتا۔ Tyres کی condition بھی دیکھنی چاہیے۔ اگر tyre میں bulge ہو۔ sidewall damaged ہو۔ tread uneven ہو یا tyre میں structural problem ہو تو اسے صرف balancing weight لگا کر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح wheel alignment اور suspension components بھی inspection کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ بعض cases میں wheel bearing یا steering components بھی vibration یا unusual handling کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے symptom کو دیکھ کر ایک ہی part کو فوراً خراب قرار دینا درست نہیں۔
زاہد نے پوچھا کہ اگر steering صرف braking کے دوران کانپے تو کیا ہوگا۔ Mechanic نے بتایا کہ پھر brake system کو زیادہ attention دینی ہوگی۔ Brake disc کی condition۔ pad contact اور related components inspect کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر vibration صرف acceleration کے وقت آئے تو diagnosis کا direction مختلف ہو سکتا ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ vibration کب آتی ہے۔ کس speed پر آتی ہے اور کس driving condition میں بڑھتی ہے۔
زاہد کو اب سمجھ آ گئی تھی کہ گاڑی کی ہر vibration کا اپنا context ہوتا ہے۔ وہ پہلے صرف اتنا جانتا تھا کہ steering کانپ رہا ہے۔ اب وہ جانتا تھا کہ mechanic کو صحیح information دینا diagnosis کو آسان بنا سکتا ہے۔ اگر وہ صرف یہ کہتا کہ گاڑی کانپتی ہے تو mechanic کے پاس possibilities کی ایک لمبی list ہوتی۔ لیکن اگر وہ بتائے کہ steering صرف 90 کے قریب speed پر کانپتا ہے اور braking کے دوران نہیں تو diagnosis زیادہ focused ہو سکتا ہے۔
اس دن کے بعد زاہد نے ایک عادت بدل دی۔ اب اگر گاڑی میں کوئی نئی vibration محسوس ہو تو وہ اسے صرف road کا مسئلہ نہیں سمجھتا۔ وہ یہ observe کرتا ہے کہ vibration steering میں ہے یا پوری body میں۔ کم speed پر ہے یا high speed پر۔ braking کے دوران ہے یا acceleration کے دوران۔ اور کیا tyre یا suspension میں کوئی واضح مسئلہ موجود ہے۔
اس نے اپنے دوستوں سے کہا کہ گاڑی کو سمجھنے کے لیے mechanic بننا ضروری نہیں۔ صرف اس کی شکایت کو صحیح طریقے سے observe کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ گاڑی اکثر پہلے symptom دیتی ہے اور بعد میں خرچہ۔
زاہد اب highway پر گاڑی چلاتے ہوئے steering کو پہلے سے زیادہ محسوس کرتا ہے۔ اگر سب smooth ہو تو اسے سکون ملتا ہے۔ اگر کوئی نئی vibration محسوس ہو تو وہ اسے اگلے مہینے تک postpone نہیں کرتا۔
کیونکہ اسے اب معلوم ہو چکا ہے کہ high speed پر steering کا کانپنا صرف irritation نہیں ہو سکتا۔
یہ tyre balance کی warning ہو سکتی ہے۔
یہ wheel کی condition کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔
یہ alignment یا suspension کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔
اور بعض حالات میں یہ safety issue بھی بن سکتا ہے۔
اب آپ بتائیں۔
اگر آپ کی گاڑی کا steering wheel صرف highway speed پر کانپنے لگے تو کیا آپ اسے سڑک کا مسئلہ سمجھ کر ignore کریں گے یا سب سے پہلے tyres اور wheel balancing check کروائیں گے۔
اور کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ کی گاڑی کم speed پر بالکل smooth ہو لیکن speed بڑھاتے ہی steering اچانک کانپنے لگے۔
Join our group for buying and selling
https://www.facebook.com/share/g/1C2S1RVAbQ