13/08/2026
"میرا بیٹا تو اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا... پر میں کسی اور ماں کا بیٹا نہیں چھیننا چاہتی!"
دبئی کی عدالت میں اس وقت مکمل خاموشی چھا گئی جب کٹہرے میں ایک غریب پاکستانی ڈرائیور اپنی سزا کے انتظار میں کھڑا کانپ رہا تھا۔
سامنے وہ ضعیف العمر ماں کھڑی تھی جس کے اکلوتے جوان بیٹے کی جان اس ڈرائیور سے ٹریفک حادثے میں گئی تھی۔
عدالت میں ہر شخص یہی سوچ رہا تھا کہ آج یہ ماں انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے بھاری دیت یعنی 24 کروڑ روپے کا مطالبہ کرے گی جو اس غریب ڈرائیور کی اوقات سے بہت باہر تھی۔
جب جج نے اس ماں سے اس کا فیصلہ پوچھا تو اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ تاریخی جملہ کہا جس نے سب کو رلا دیا۔
ماں نے کہا:
"میرا بیٹا اب اس دنیا میں واپس نہیں آ سکتا، لیکن میں اس غریب کو معاف کر کے اس کے بچوں کو یتیم نہیں کرنا چاہتی۔ میں نے اسے اللہ کی رضا کے لیے معاف کیا۔"
یہ سنتے ہی کٹہرے میں کھڑا ڈرائیور گھٹنوں کے بل گر کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ عدالت میں موجود جج سمیت ہر آنکھ اشکبار تھی۔
وہ چاہتی تو اسے عمر بھر جیل میں رکھوا سکتی تھی، کروڑوں روپے لے سکتی تھی، مگر اس نے معافی کو چنا۔
سبق: اصل بڑائی بدلہ لینے میں نہیں، بلکہ معاف کر دینے میں ہے۔