16/09/2026
سکوٹی کا فائدہ صرف بیچنے والے کو نہیں، صحیح استعمال کرنے والے کو بھی ہوتا ہے — بس حساب استعمال کے حساب سے کرنا چاہیے۔
اگر کوئی شخص روزانہ صرف 10، 15 یا 20 کلومیٹر چلاتا ہے تو یقیناً اس کے لیے الیکٹرک سکوٹی کی بچت اتنی نمایاں نہیں ہوگی۔ لیکن جو شخص روزانہ 50 کلومیٹر یا اس سے زیادہ سفر کرتا ہے، اس کے لیے حساب بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔
مثلاً روزانہ 50 کلومیٹر اور مہینے کے 26 دن سفر کیا جائے تو سال میں تقریباً 15,600 کلومیٹر بنتے ہیں۔ ایسے صارف کے لیے پیٹرول کی بچت چند ہزار روپے نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ایک قابلِ ذکر رقم بن جاتی ہے۔ بجلی کی فی کلومیٹر لاگت کم ہونے کے ساتھ ساتھ انجن آئل، فلٹر، پلگ اور انجن سے متعلق کئی روایتی اخراجات بھی کم ہو جاتے ہیں۔
بیٹری کی قیمت اور اس کی عمر کو بھی حساب میں ضرور شامل کرنا چاہیے، لیکن یہ کہنا کہ ہر صارف کے لیے الیکٹرک سکوٹی نقصان کا سودا ہے، درست نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آپ روزانہ کتنی دور چلاتے ہیں، بجلی کی قیمت کیا ہے، پیٹرول کتنا خرچ ہوتا ہے اور گاڑی کتنے عرصے تک استعمال کرنی ہے۔
اور ایک فائدہ ایسا ہے جسے صرف روپے میں نہیں ناپا جا سکتا
ماحول۔
پیٹرول اور ڈیزل کے دھوئیں سے فضائی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے بڑے شہروں میں جہاں ٹریفک اور آلودگی پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ ہیں، آنے والے برسوں میں صاف اور کم اخراج والی ٹرانسپورٹ کی ضرورت مزید بڑھے گی۔
الیکٹرک سکوٹی صرف آج کے پیٹرول کے خرچے کا متبادل نہیں؛ یہ آنے والے وقت کی ٹرانسپورٹ کا حصہ ہے۔
لہٰذا فیصلہ جذبات سے نہیں، اپنے روزانہ کے سفر، کلومیٹر، بجلی اور پیٹرول کے حقیقی حساب سے کریں۔
جو روزانہ 50 کلومیٹر سے زیادہ چلاتا ہے، اس کے لیے الیکٹرک سکوٹی کی بچت کو نظر انداز کرنا بھی اتنا ہی غلط ہے جتنا ہر شخص کے لیے اسے لازمی فائدہ مند سمجھنا۔
آخر میں سب سے بڑا فائدہ صرف جیب کا نہیں، ہماری آنے والی نسلوں کی صاف ہوا کا بھی ہے۔