15/09/2022
2023ماڈل مبارک ہو ۔پھر سے پاکستانیوں کے جیب پر ڈاکہ پڑنے والہ ہے
پچھلے چالیس سال سے ہونڈا 125 ایک ہی ڈیزائن اور ایک ہی انجن بنا رہی ہے جس کی کوالٹی دن بدن گرتی جاتی ہے اور قیمت ہر سال بڑھتی جاتی ہے..
ہر سال ٹینکی ٹاپے پر سٹیکر کا ڈیزائن تبدیل کر کے پہلے دو یا تین ہزار اور اب پچھلے تین چار سال سے پندرہ یا بیس ہزار روپے بڑھا دئیے جاتے ہیں اور اسے نیا ماڈل قرار دے دیا جاتا ہے یوں چالیس سال میں ایک لاکھ چالیس ہزار روپے بڑھا چکے ہیں. وہی موٹرسائیکل جو چالیس ہزار روپے میں ملتی تھی آج ایک لاکھ پچہتر ہزار روپے کی ہو چکی ہے جبکہ کوالٹی نہایت خراب ہے. بہت ہی ہلکا میٹیریل استعمال کیا جاتا ہے موٹرسائیکل کا جسم تو وہی رہتا لیکن وزن گھٹتا جاتا ہے. پوائنٹ گاڑی کا وزن، سی ڈی آئی گاڑی کا وزن اور 2022 ماڈل یورو کے وزن میں ٹھیک ٹھاک فرق ہے.
وزن گھٹتا ہے تو سپیڈ بھی بڑھ جاتی لیکن روڈ گرپ ختم ہو جاتی ہے، موٹرسائیکل ستر اسی کی رفتار پر جا کر وائیبریٹ کرنے لگتی ہے اور بندہ ہوا میں اڑتا ہے. پاکستان میں بڑی کمپنیوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں، سٹینڈرڈ اور کوالٹی پیسے دے کر پاس کروا لی جاتی ہے اٹلس ہونڈا کے شیرازی ٹریڈنگ نے بھی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے.
ایک لاکھ پچہتر ہزار روپے لینے کے بعد بھی موٹرسائیکل میں الائے رم نہیں ہیں، ڈسک بریک نہیں ہے، فیول گیج نہیں ہے، گئیر انڈیکیٹر نہیں ہے، ڈپر اور ہیزرڈ نہیں ہے. سیٹ نہایت ہی بےکار ہے آدھا گھنٹہ سفر کریں اور تھک جائیں، اگلے. پچھلے شاک نہایت غیر آرام دہ. سائلنسر کا شور بہت زیادہ ہے جس پر اٹھارہ سال کے لڑکے ہی خوش ہو سکتے ہیں کوئی سیریس آدمی یہ موٹرسائیکل نہیں چلا سکتا.