04/03/2026
کاش! اس ننھے سے سر پر صرف کتابوں کا بستہ ہوتا، ذمہ داریوں کا یہ بھاری بوجھ نہیں۔ اس کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہونے چاہیے تھے، لیکن یہاں تو صرف بے بسی کے آنسو ہیں جو شاید وہ دنیا سے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
یہ بچہ جو بازار کی گرد میں بیٹھا سبزی کے دو ٹکڑے بیچنے پر مجبور ہے، دراصل ہمارے معاشرے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ جس عمر میں اسے سکول جانا تھا، اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا تھا اور اپنے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنی تھی، اس عمر میں وہ روٹی کی خاطر اپنی معصومیت قربان کر رہا ہے۔ اس کے چہرے پر چھائی اداسی یہ بتاتی ہے کہ وہ کتنا تھک چکا ہے—جسمانی طور پر بھی اور ذہنی طور پر بھی۔
غربت نے اس سے اس کا بچپن چھین لیا ہے۔ اس کا جھکا ہوا سر اور ہاتھوں سے چھپایا ہوا چہرہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اسے ہمدردی سے زیادہ موقع چاہیے، اسے بھیک نہیں بلکہ اس کا وہ حق چاہیے جو ایک ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
آئیے! اپنے ارد گرد ایسے بچوں پر نظر رکھیں، شاید ہماری تھوڑی سی توجہ اور مدد کسی معصوم کے خوابوں کو پھر سے زندہ کر سکے۔ کیونکہ کوئی بھی بچہ پیدا تو پھول کی طرح ہوتا ہے، لیکن حالات کی تپش اسے وقت سے پہلے مرجھا دیتی ہے۔