12/06/2019
میں اپنی محبت کا جو باب کھولوں
پھر اس میں رکھا وہ اِک گلاب دیکھوں
کمال دیکھوں______عروج دیکھوں
*میں اسکی چاہتوں کا نزول دیکھوں
مہکتی صبحوں، چہکتی شاموں کے
سارے لمحوں میں
میری خاطر کیا تھا اس نے
کبھی تو وہ انتظار دیکھوں
پھر اس کو بدلتا ہوا میں دیکھوں
اور اپنی خاطر کبھی اسے بے قرار دیکھوں
بے چین دیکھوں بے زار دیکھوں
گیا نہیں ہے_____ہے باقی مجھ میں
میں اپنی سانسیں بحال دیکھوں
میں اپنی زندہ مثال دیکھوں